تہاڑ جیل سے جے این یو پہنچ کر کنھیا نے مودی اور آر ایس ایس کو للکارا

ہندوستان سے نہیں، ہندوستان کو لوٹنے والوں سے آزادی چاہیے: کنھیا کمار

رہائی کے بعد جے این یو طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کنھیا کمار
رہائی کے بعد جے این یو طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کنھیا کمار

نئی دہلی، ۳ مارچ (نامہ نگار): جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار کو آج ۲۰ دنوں بعد جیل سے رہائی مل گئی۔ ان کی رہائی سے قبل دہلی پولس نے ایک ایڈوائزری جاری کرکے جے این یو کے آس پاس، جنتر منتر اور اس قسم کے دیگر مقامات پر پولس کو چوکنا رہنے کے لیے کہا تھا۔ پولس کو خدشہ تھا کہ کنھیا کی رہائی کے بعد اس کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپ ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں۔ کنھیا کو بڑی خاموشی کے ساتھ دیر شام جے این یو کیمپس کے اندر پہنچا دیا گیا۔

جے این یو پہنچنے کے بعد وہاں کی طلبہ یونین نے گنگا ڈھابا سے ایڈمن بلاک تک ایک مارچ نکالا۔ اس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں طلبہ، طالبات و اساتذہ جے این یو ایڈمنسٹریٹو بلاک کے پاس ہی کنھیا کو سننے کے لیے جمع ہوئے۔ رات تقریباً ۱۰ بجے کنھیا نے ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ چونکہ جے این یو کے طلبہ نے اسکالرشپ بند کیے جانے کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے یوجی سی کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔ اسی تحریک کو دبانے کے لیے موجودہ مودی حکومت نے روہت ویمولا کے معاملے کو انجام دیا اور پھر روہت کے معاملے کو دبانے کے لیے جے این یو کے طلبہ کے خلاف ملک سے بغاوت کا الزام لگا کر ان کو گرفتار کروایا۔

کنھیا کمار نے واضح لفظوں میں کہا کہ اب اس کے بعد رام مندر کا مدعا چھیڑا جائے گا۔ انھوں نے ملک کے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی نہیں چاہتے کہ عوام انھیں ان کا وعدہ یاد دلائیں، اس لیے وہ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کنھیا نے سبرامنین سوامی اور آر ایس ایس کو چنوتی دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جے این یو کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لاکھ جھوٹ بولنے کے باوجود چاند کو سورج نہیں ثابت کیا جا سکتا، اس لیے جو لوگ جھوٹ بول کر ملک کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اب ہوشیار ہو جائیں، کیوں کہ عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔

کنھیا نے یہ بھی کہا کہ حکومت میں بیٹھے لوگ یہ کہتے ہیں کہ سرحد پر ملک کے جوان اپنی جان دے رہے ہیں اور جے این یو کے اسٹوڈنٹ ملک کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر نے کہا کہ مرنے والے جوان کسانوں اور مزدوروں کے بیٹے ہیں اور اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جس طبقہ سے خود کنھیا کا تعلق ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’’حکومت میں بیٹھے کتنے وزیروں کے بیٹوں نے اب تک ملک کے لیے جان دی ہے؟‘‘ تقریباً چالیس منٹ کی تقریر کے بعد کنھیا نے ایک بار ’’آزادی‘‘ کا نعرہ لگایا اور کہا کہ ہمیں ’’ہندوستان سے نہیں ہندوستان کو لوٹنے والوں سے آزادی چاہیے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *