جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں احمدالقاضی کا استقبال

نئی دہلی..   (پریس ریلیز) ✍️

آج  جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں مصر سے تشریف لائے پروفیسر احمد القاضی کے اعزاز میں ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کے آغاز میں مہمانوں کا تعار ف کراتے ہوئے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ اردو زبا ن تہذیبی اعتبار سے پوری دنیا میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔خاص طور سے مصر   اردو زبان و ادب کا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں کی یونیورسٹیز میں اردو زبان وا دب کا باضابطہ شعبہ قائم ہے یہاں کے اساتذہ میں احمد  القاضی ایک بڑا نام ہے۔انھیں اردو اور عربی دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہے۔اردو افسانوں کو انھوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ عربی زبان میں منتقل کیا ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ابن کنول کے افسانوں کو احمد القاضی نے عربی زبان میں ترجمہ کرکے بہت اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ مصر ہی کی طرح ماریشش بھی اردو کی ایک نئی بستی ہے یہاں اردو جاننے والوں کی خاصی تعداد ہے اور اس زبان سے وابستہ خواتین اردو کے فروغ میں پیش پیش ہیں اور خوشی کا مقام ہے کہ اس پروگرام میں محترمہ بی بی سکینہ استاذ مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ ماریشس بھی موجود ہیں۔ بی بی سکینہ نے اپنی تقریر میں ماریشش میں اردو کی صورت حال پر روشنی ڈالی۔احمد القاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصر  میں اردو زبان و ادب کی اہمیت اور اس کی افادیت کا اندازہ ہوچلا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ زبان بہت مقبول ہے۔ اردو پڑھنے اور پڑھانےکا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔نیز اردو ادب کو مصر میں مقبول عام بنانے کے لیے ترجمے کا سہارا بھی لیا جارہا ہے اور اردو افسانوں کو عربی میں منتقل کیا جارہا ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے اپنے صدارتی خطاب میں احمدالقاضی اور بی بی سکینہ کی ادبی خدمات کو سراہا کہ ان لوگوں نےکس طرح اپنے  اپنے ملکوں میں اردوزبان وادب کی خدمت کی ہے۔ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔قبل ازیں شعبہ عربی کی طرف سے احمدالقاضی کے لیے ایک  استقبالیہ پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں مہمان موصوف نے ترجمے کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زبان میں ترجمہ ایک مشکل بھراکام ہے۔مترجم دونوں زبان کے درمیان ترجمہ کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ متن زبان کے اسرارورموز سے واقفیت حاصل کرکے ترجمے کی جانب پیش رفت کی جائے۔اسی صورت میں ہم اصل زبان کی چاشنی سے بہرہ ورہوپائیں گے۔اس پروگرام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ پروفیسر حبیب اللہ خان نے بھی ترجمے کے حوالے سے بہت ہی اہم  نکات پیش کیے۔ اس استقبالیہ پروگرام میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے  شعبہ عربی سے پروفیسر اسلم اصلاحی،پروفیسر رضوان الرحمان،پروفیسر مجیب ،ڈاکٹر قطب الدین اوردیگر اساتذہ وریسرچ اسکالر نے شرکت کی۔ساتھ ہی اور شعبہ اردو کے تمام اساتذہ اور ریسرچ اسکالربھی موجود تھے. 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *