جے این یو کے آزاد پرندے

 

 

JNU_Sparrowsڈاکٹر قمر تبریز

بچپن میں جب دوستوں کے ساتھ غُلیل لے کر کھیت و کھلیہان کی طرف نکلتا اور بدمعاشیاں کرنے کے بعد گھر واپس لوٹتا، تو دادا کی ڈانٹ سن کر سہم سا جاتا۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی دادا کا پہلا سوال ہوتا ’’گوریّے پر غلیل کیوں چلایا؟‘‘۔ لاکھ جھوٹ بولنے کے باوجود دادا کے غصے کو کم نہیں کرپاتا تھا۔ حالانکہ دادا نے مجھے کبھی مارا نہیں، لیکن زبردست ڈانٹ ضرور پلاتے تھے۔ دراصل، وہ جس بنگلے میں رہتے تھے، اس کے چھپّروں پر گوریّوں نے درجنوں گھونسلے بنا رکھے تھے۔ بنگلہ کے نام سے مشہور مردوں کے اس بیٹھکہ میں کئی چارپائیاں لگی ہوئی تھیں، رات میں گھر کے سارے مرد یہیں سوتے تھے، لیکن دن ہوتے ہی سب اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے اور بنگلہ میں صرف دادا بچ جاتے تھے۔ ہم بچے دن میں کسی وقت جب دادا سے ملنے کے لیے وہاں پہنچتے تو دیکھتے کہ ان چارپائیوں پر گوریّاں بغیر کسی خوف کے بڑے مزے سے چہچہا رہی ہیں۔ بنگلہ کے ایک کونے میں دادا پابندی کے ساتھ ان پرندوں کے لیے ایک برتن میں پانی اور بنگلہ کے صحن میں موجود چبوترے پر گیہوں، چاول یا سرسوں کے دانے چھنٹوا دیتے، تاکہ وہ انھیں آرام سے کھا سکیں۔ گوریّوں سے دادا کی دوستی لاجواب تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ کھیت اور کھلیہان میں ہم جب بھی کسی گوریے کو اپنی غُلیل سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے، تو یہ ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے ہی دادا سے ہماری اس بدمعاشی کی شکایت کردیتے۔ اسی لیے گھر واپسی پر ہمیں دادا کی ڈانٹ سننی پڑتی۔ لیکن، جس دن اس بنگلہ سے دادا کا جنازہ نکلا اور ہم قبرستان سے واپس لوٹے، تو عجیب و غریب ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بنگلہ کی تمام گوریّاں اپنے گھونسلوں سے نکل کر چارپائیوں پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آج وہ چہچہا نہیں رہی تھیں، بلکہ خاموش تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ سب کی سب وہاں سے اُڑ گئیں اور پھر کبھی نہیں لوٹیں۔ اس منظر کو یاد کرکے آج بھی میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

JNU_Dancing Peacock

 

خیر، شاید یہی وجہ ہے کہ آج چالیس سال کا ہونے کے باوجود جب بھی کہیں گوریوں کو دیکھتا ہوں، تو ان کے ساتھ چند لمحے گزارنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے تقریباً ۲۰ سال پہلے جب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں داخلہ لیا تو، یہاں گوریّوں کے ساتھ دوستی کرنے کا ایک نایاب موقع مل گیا۔ صبح سویرے اٹھ کر ورزِش کرنا بچپن سے ہی میرا معمول رہا ہے، اسی لیے کھیل کے میدانوں سے میری دوستی پرانی ہے۔ جے این یو میں اسٹیڈیم کے نام سے معروف اسپورٹس گراؤنڈ کے پاس ہی ’’پارتھا سارتھی راک‘‘ ہے۔ لہٰذا، ورزش کے بعد میں بھی اکثر وہاں چلا جاتا ہوں، گوریّے دیکھنے۔ گوریّوں کے طفیل میں مجھے وہاں کبھی کبھار ناچتے ہوئے مور بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ نیل گائے سے تو اکثر مڈبھیڑ ہو جاتی ہے۔ لیکن، آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ نیل گائے، مور یا پھر یہ گوریّے آدمیوں سے ڈرتے نہیں، بلکہ بے خوف و خطر ہوکر آزاد فضا میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اور یہی جے این یو کی پہچان ہے۔ دور دراز جنگلوں اور سنسان علاقوں میں کوئی چاہے، تو انھیں اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، لیکن جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ نے کیمپس کا ماحول ایسا بنا رکھا ہے کہ وہاں کوئی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔JNU_Nest

 

جے این یو سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اس کے پاس کے ہی علاقے کو اپنی رہائش گاہ بنا رکھا ہے۔ لیکن، ملک و بیرونِ ملک میں پھیلے جے این یو کے لاکھوں فارغین کی طرح میں بھی آج کل کافی پریشان ہوں۔ میری پریشانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے میں اُن گوریّوں سے ملاقات نہیں کر پا رہا ہوں۔ جے این یو مین گیٹ کے باہر دہلی پولس کا پہرہ لگا ہوا ہے اور گیٹ کے اندر سیکورٹی گارڈس مجھے کیمپس میں داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ پہلے دن تو ان سبھی سے لڑ کر اندر داخل ہوگیا تھا اور پورے کیمپس میں گھوم کر اِن آزاد پرندوں کا حال دیکھا، تو کافی افسوس ہوا۔ کیمپس کے آس پاس کے مقامی باشندے اور خاص کر بزرگ حضرات صبح و شام ان آزاد پرندوں کے لیے دانا اور پانی لے جاکر جاتے ہیں۔ لیکن، اب چونکہ باہر کے کسی بھی آدمی کو جے این یو کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا میرے وہ دوست نہ جانے کیسے زندگی گزار رہے ہوں گے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ اُن آزاد پرندوں کا خیال رکھ رہے ہوں گے۔

JNU_Overview from PSR

 

لیکن، میں اپنے وزیر اعظم جناب نریندر مودی سے بس اتنی سی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جے این یو کے اِن آزاد پرندوں کی آزادی نہ چھینیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *