جے این یو ملک کا ایک قیمتی سرمایہ ہے:دیپانکر بھٹاچاریہ

طلبہ یونین کے ذریعہ منعقد ہ میٹنگ سے سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری کا خطاب

 سی پی آئی( ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ
سی پی آئی( ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ

نئی دہلی، ۲۷؍فروری (حامد رضا) جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمار سمیت دیگر طالب علموں کی رہائی کے لیے جاری تحریک میں سی پی آئی( ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ بھی شامل ہوئے۔انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی عمارت کے پاس طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فسطائی طاقتیں ہندوستان میں پھر سے سر اٹھارہی ہیں اور اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آئی ہے، لگاتار ایک خاص نظریہ کو بڑھاوادیا جارہاہے۔ اقلیتوں،دلتوں، پسماندہ اور دبے کچلے طبقوں پر حملے زیادہ ہورہے ہیں جو اس ملک کی جمہوریت کے خلاف ہے ۔
دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ تعلیم اداروں کو ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جارہاہے۔ پہلے ایف ٹی آئی آئی پونے، آئی آئی ٹی مدراس، حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی اور اب جے این یو نشانے پر ہے ۔

سامعین کا ایک منظر
سامعین کا ایک منظر

جے این یو کے چند ایک طلبہ کے خلاف لگائے گئے غداری کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ملک کی اس مایہ ناز یونیورسٹی پر تشدد پسند نظریہ کے حامل افراد بہت دنوں سے نشانہ لگائے ہوئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اسے بدنام کرنے کے لیے بی جے پی کے ممبران بے تکے بیانات دے رہے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ جے این یو ملک کا ایک قیمتی سرمایہ ہے، اس دانشگاہ سے نکلنے والے فضلاء نے ہندوستان کے اندر اور اس سے باہر زندگی اور سماج کے ہر میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پرتشدد ماحول میں ضرورت ہے کہ بھگت سنگھ اوربابا بھیم راؤ امبیڈکر کے افکار وخیالات سے اتفاق کرنے والے تمام گروپ ایک پلیٹ فارم پر آکر اس ملک کو بچائیں اور ترقی کی طرف لے جائیں ۔
واضح ہو کہ جے این یو کیمپس میں ۹؍ فروری کو افضل گرو کی یاد میں ہونے والے ایک پروگرام کے سلسلے میں تنازع پیدا ہوگیاتھا جس کی وجہ سے طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمارکوپولس نے گرفتارکرلیاتھااوردیگر آٹھ طلبہ کے خلاف بھی غداری کا کیس داخل کیا تھا۔ پولس کے اس اقدام کے خلاف طلبہ کا ایک بڑا گروپ مسلسل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کررہا ہے۔طلبہ کی اس تحریک کو جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے علاوہ سابق طلبہ لیڈران کی بھی حمایت حاصل ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *