عمر، انربن کی رہائی کے لیے جے این یو طلبہ کا پیپلز مارچ

JNU Protest March

نئی دہلی، ۱۵ مارچ (نامہ نگار): جواہر لعل یونیورسٹی کے طلبہ نے آج اپنے دو گرفتار ساتھیوں عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پیپلز مارچ نکالا۔ یہ مارچ دہلی کے منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ ہاؤس تک نکالا گیا۔ اس ریلی میں آل انڈیا پروگریسیو ویمنس ایسوسی ایشن کی سکریٹری کویتا کرشنن کے علاوہ مشہور مصنفہ اور کارکن ارندھتی رائے نے بھی شرکت کی۔

طلبہ کی اس ریلی میں جہاں ایک طرف روہت ویمولا کو انصاف دلانے کے نعرے لگائے جا رہے تھے، وہیں یہ بھی نعرہ لگایا جا رہا تھا کہ ’’جے این یو پریوار عمر کے پریوار کے ساتھ ہے‘‘۔  جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار کی قیادت میں نکالی گئی اس ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ جے این یو کے علاوہ اس مارچ میں ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے بھی شرکت کی۔

ریلی دوپہر تقریباً ۴ بجے منڈی ہاؤس سے نکالی گئی۔ کنھیا کمار نے ایک اپیل جاری کرکے طلبہ اور سول سوسائٹی سے مارچ میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی۔ دوسری طرف ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، جس کے صدر قاسم رسول الیاس جے این یو کے گرفتار طالب علم عمر خالد کے والد ہیں، نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کرکے اس ریلی کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا تھا۔

45454

دریں اثنا، دہلی کی ایک عدالت نے آج عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کی عدالتی حراست میں توسیع کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس کو لے کر طلبہ میں ضرور مایوسی پائی جا رہی ہے، لیکن جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار نے ان دونوں کی رہائی تک تحریک چلانے کا اپنا عزم دوہرایا ہے۔ کنھیا کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت نے روہت ویمولا کے واقعہ کو دبانے کے لیے جے این یو کا ایشو چھیڑ رکھا ہے، لیکن وہ اس سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ کنھیا حکومت پر طلبہ کی آواز کو دبانے کا بھی الزام لگاتا رہا ہے۔

دریں اثناء، دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے کنھیا کمار کی عبوری ضمانت کو ردّ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں عدالت سے گزارش کی گئی ہے کہ چونکہ کنھیا نے ہندوستانی فوج پر جھوٹا الزام لگایا ہے، جو کہ ملک سے بغاوت کے ہی زمرے میں آتا ہے، اس لیے اس کی ضمانت ردّ کر دینی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *