عربک کانفرنس میں جے این یو کے ریسرچ اسکالر کی شرکت

IMG_20160505_102951

دبئی، ۱۸ مئی (پریس ریلیز): پانچویں انٹرنیشنل عربک کانفرنس متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ۴ سے ۷ مئی تک منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے لگ بھگ ۲۵۰۰ مقالہ نگاروں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان سے کل ۴ مقالہ نگاروں کو منتخب کیا گیا، جس میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر کاشف جمال کو بھی اپنا مقالہ پیش کرنے کے لئے دبئی شہر دعوت دی گئی۔

کاشف جمال نے ”عربی زبان وادب کی تعلیم میں ہندوستانی یونیورسٹیوں کا کردار“ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ اپنے مقالہ میں انھوں نے ہندوستانی یونیورسٹیوں میں عربی زبان وادب کی صورت حال کا مفصل ذکرکرتے ہوئے اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ریسرچ اور اکیڈمک سطح پر ہندوستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ عربک یونیورسٹیوں کے تعاون کی تجویز پیش کی۔ سوال وجواب کے مرحلے میں انھوں نے اپنے موقف کا دفاع مضبوطی سے کرتے ہوئے حاضرین کو تسلی بخش جواب دینے کی بھرپور کوشش کی۔ مختلف ممالک سے تشریف لائے ہوئے مندوبین نے مقالے کو کافی پسند کیا اور کاشف جمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کو تشجیعی کلمات سے نوازا۔ مقالہ کی عمدگی کو دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کونسل فار عربک لنگویج کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر علی عبداللہ موسی نے مقالہ کی تجاویز کو عمل در آمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔


واضح ہو کہ یہ کانفرنس انٹرنیشنل کونسل فار عربک لنگویج کی زیرنگرانی دبئی حکومت کی طرف سے منعقد کی گئی ہے اور عالم عرب میں عربی زبان وادب پر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔ کانفرنس کا افتتاح متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے ہاتھوں دبئی کے البستان روتانا ہوٹل کے رشیدیہ ہال میں ہوا۔ کاشف جمال کی اس کامیابی پر جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے تمام اساتذہ نے ان کو ڈھیر ساری مبارکباد پیش کیں اور روشن مستقبل کے لیے دعائیں دیں۔ اسی طرح کاشف جمال کے آبائی شہر مئو ناتھ بھنجن سے بھی لوگوں نے ان کو مبارکباد پیش کیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ دبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کاشف جمال نے اس کانفرنس کو عالم عرب کی سب سے اچھی اور کامیاب کانفرنس قرار دیا اور اپنی اس کامیابی کا کریڈٹ اپنے والدین، تمام اساتذہ اور اپنے مدرسے جامعہ عالیہ عربیہ کو دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *