جے این یو طلبہ نے جلایا جھارکھنڈ حکومت کا پتلا

لاتیہار میں دو مسلمانوں کو پھانسی پر لٹکانے کے خلاف نعرے بازی

JNU Protest

نئی دہلی، ۲۱ مارچ (نامہ نگار): جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے چار روز قبل لاتیہار ضلع میں دو مسلم مویشی تاجروں کو ایک درخت پر لٹکاکر پھانسی دینے کے خلاف آج ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے جھارکھنڈ حکومت کا پتلا نذرِ آتش کیا اور مودی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ گزشتہ ۱۸ مارچ بروز جمعہ کو گئو رکشا سمیتی کے اراکین نے گائے کے تحفظ کی آڑ میں دو مسلم مویشی تاجروں محمد مظلوم (۳۵ سال) اور عنایت اللہ خان (۱۲ سال) کو بے رحمی سے مارنے کے بعد انھیں پیڑ پر لٹکا دیا، جس سے ان دونوں کی موت ہوگئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ بھینسوں کو مارکیٹ لے کر جا رہے تھے کہ گائے لے جانے کے الزام میں کچھ شرپسندوں نے انھیں راستے میں گھیر لیا اور پھر جان سے مار دیا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے اس کے خلاف آج کیمپس میں ایڈمنسٹریٹو بلاک پر جمع ہوکر اپنا احتجاج درج کرایا اور ساتھ ہی حکومت کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔ ان طلبہ کا کہنا تھا کہ موجودہ بی جے پی حکومت ملک بھر میں ہمارے کھانے پینے پر پابندی لگانا چاہتی ہے، اسی لیے اس قسم کے واردات کو انجام دیا جا رہا ہے۔ ان طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں دادری میں اخلاق کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا اور اب یہ لاتیہار کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔

دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے مظالم کے خلاف طلبہ نے ایک بار پھر زوردار نعرے لگائے، جن میں حال ہی میں تہاڑ جیل سے عبوری ضمانت پر رہا ہوکر آنے والے دو طلبہ عمر خالد اور انربن بھی شامل تھے۔ طلبہ کے ایک لیڈر نے یہ بھی بتایا کہ اب پورے ملک میں جے این یو کے طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اس نے خاص طور سے دو تین واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو دن پہلے طلبہ کا ایک گروپ کیمپس کے باہر کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گیا ہوا تھا، جہاں پر دوسرے لوگوں کو جب ان کے جے این یو کے طلبہ ہونے کا علم ہوا، تو انھوں نے ان کے اوپر کھانے کی پلیٹیں پھینکیں۔ اسی طرح جے این یو کے باہر منیرکا گاؤں میں ایک طالب علم کی موٹرسائیکل پر جے این یو کا اسٹیکر لگا ہوا دیکھ کر اسے آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹرین سے سفر کرنے کے دوران بھی جے این یو کے طالب علموں پر حملے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ طلبہ کا الزام تھا کہ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ان سب کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہے ہیں۔

طلبہ یونین کے عہدیداروں کی یہ بھی شکایت تھی کہ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر اب ان سے براہِ راست نہیں ملتے، بلکہ ان سے ملنے سے پہلے ان کے پی اے سے اجازت طلب کرنی پڑتی ہے، حالانکہ ماضی میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اسٹوڈینٹ یونین کے اہل کار بڑی آسانی سے وائس چانسلر سے ملاقات کر لیتے تھے اور اس میں پہلے انھیں کسی بھی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ طلبہ کی یہ بھی شکایت ہے کہ یونیورسٹی کے ہر طالب علم پر اپنا پہرہ بیٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے وہ کسی بھی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ ابھی چند دنوں قبل جے این یو کے کچھ طلبہ نے منواسمرتی کی کاپیاں جلائی تھیں، جس کے بعد انھیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس پر اسٹوڈنٹ یونین نے آنے والے دنوں میں ایڈ بلاک پر ۵۰۰ طالب علموں کو جمع کرکے منواسمرتی کو جلانے کا عہد لیا ہے، تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ وائس چانسلر کتنوں کو شو کاز نوٹس بھیجتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *