جے این یو طلبہ عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کو ملی ضمانت

Umar-Anirban

نئی دہلی، ۱۸ مارچ: ملک سے غداری کے معاملے میں گرفتار کیے گئے جے این یو کے دو طلبہ عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کو آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی۔ ایڈیشنل سیشنز جج رِتیش سنگھ نے دونوں سے ضمانت کے طور پر ۲۵ ہزار روپے بھی جمع کرنے کا حکم دیا۔

عمر اور انربن کی ضمانت کی خبر ملتے ہی جے این یو برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار نے اس پر اپنا فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو ملی ضمانت یہ ثابت کرتی ہے کہ ملک ابھی پوری طرح زعفرانی نہیں ہوا ہے۔ کنھیا نے مزید کہا کہ ’’چاہے جو بھی ہو جائے، ہمارا اتحاد کسی بھی طرح ٹوٹنا نہیں چاہیے۔‘‘

دونوں نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں یہ اپیل کرتے ہوئے ضمانت عرضی داخل کی تھی کہ چونکہ ان کے ساتھی کنھیا کمار کو اس معاملے میں عبوری ضمانت دی جا چکی ہے، لہٰذا انھیں بھی ضمانت ملنی چاہیے۔ انھوں نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے اوپر ’’ملک مخالف‘‘ نعرے لگانے اور افضل گورو کی تعریف کرنے کا ’’جھوٹا‘‘ الزام لگایا گیا ہے۔ دونوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ تفتیش میں پولس کا پورا تعاون کریں گے اور کسی بھی طرح فرار اختیار نہیں کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ۹ فروری کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں افضل گورو کی برسی پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کے کل ۸ منتظمین میں عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کے نام بھی شامل تھے۔ ان طلبہ پر الزام ہے کہ انھوں نے کیمپس میں ملک مخالف نعرے لگائے تھے اور ساتھ ہی افضل گورو کی پھانسی کو ’’قتل‘‘ بتایا تھا۔ دہلی پولس نے اس سلسلے میں بی جے پی کے ایک لیڈر کے ذریعہ ایف آئی آر کرانے کے بعد سبھی پر ملک سے بغاوت کا الزام لگایا تھا اور جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار کو فوراً گرفتار بھی کر لیا تھا۔ اس کے بعد عمر اور انربن کہیں روپوش ہو گئے تھے، لیکن ۲۳ فروری کو دونوں نے ہی پولس کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا، جس کے بعد انھیں گرفتار کرکے کنھیا کے سامنے بیٹھا کر پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ اس کے بعد کنھیا کمار کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا، لیکن اِن دونوں کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ عمر اور انربن کی رہائی کو لے کر ۱۵ مارچ کو جے این یو طلبہ نے ہزاروں کی تعداد میں دہلی کے منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ نکال کر دونوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *