کنھیا کو ملی چھ ماہ کی عبوری ضمانت، جے این یو میں جشن کا ماحول

نئی دہلی، ۲ مارچ (نامہ نگار): دیر شام کو آج جیسے ہی دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دینے کا اعلان کیا، یونیورسٹی کیمپس میں چاروں طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ رات میں ہزاروں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس سابرمتی ڈھابا پر جمع ہوکر آزادی کے نعرے لگانے لگے، لیکن اس بار یہ نعرہ کنھیا کی آزادی سے متعلق تھا۔ کچھ لوگ زوردار آواز میں یہ نعرہ لگا رہے تھے ’’جیل کا تالا ٹوٹا ہے، کامریڈ کنھیا چھوٹا ہے‘‘۔ وہیں کچھ لوگ ’’کامریڈ کنھیا کو لال سلام‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

Celebration at Sabarmati_JNU after Kanhaiya's bail

جوش کا یہ عالم تھا کہ کل تک جس نعرہ کو مذہبی تصور کیا جاتا تھا اور جسے عام طور پر جنماشٹمی کے موقع پر لگایا جاتا تھا، آج وہی نعرہ کنھیا کے لیے بن گیا۔ یہ نعرہ تھا ’’ہاتھی گھوڑا پالکی، جے کنھیا لعل کی‘‘۔

جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ شروع سے ہی یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ کنھیا کے اوپر سے ملک کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ہٹایا جائے، کیوں کہ اس کے اوپر لگایا گیا یہ الزام جھوٹ پر مبنی تھا۔ دہلی ہائی کورٹ میں پولس بھی کنھیا کے خلاف براہِ راست کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔ البتہ عدالت نے کنھیا سے کہا کہ اسٹوڈنٹ یونین کا صدر ہونے کے ناتے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کیمپس میں ملک مخالف ہونے والی کسی بھی سرگرمی کو روکے اور خود بھی ان چیزوں سے دور رہے۔

کنھیا کے آج دیر شام تہاڑ جیل سے رہا ہونے کی امید ہے۔ تاہم، اس دوران کنھیا کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی جانچ چلتی رہے گی اور اس جانچ میں اسے پولس کی مدد کرنی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *