زندگی کے ہرقدم پر اہم ہے فیصلہ سازی

محمد خوشتر
مشہورنقاد پروفیسر کلیم الدین احمدنے اپنی خودنوشت سوانح حیات’’ اپنی تلاش میں ‘‘تحریر کیا ہے کہ جب میں نے میٹرک(دسویں) کا امتحان پاس کیا تو مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں ۔رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ اسے سائنس کی طرف موڑدیا جائے۔الغرض جتنے منھ اتنی باتیں کہ میں کیا کروں۔خیر میں نے آرٹس لیا ،اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔اب میں سوچتا ہوں کہ اگر سائنس لیا ہوتا تو کیا ہوتا۔

اکثرلوگوں کو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مواقع پر انسان کے لیے فیصلہ کرنا اور فیصلہ لینا مشکل ہوتاہے۔ وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے جہاں اسے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کدھر جائے۔اس لیے کہا جاتاہے کہ مشکل گھڑی اورکٹھن وقت میں دوستوں اور عزیزواقارب سے مشورہ کرنے کے ساتھ اساتذہ کرام کی آراء معلوم کر کے ایک حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔اور’’محنت میری رحمت تیری‘‘پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ انسان کی زندگی میں ایسے مواقع طالب علمی کے دور سے لے کر ملازمت اور دوسرے مقامات و مراحل پر پیش آتے رہتے ہیں۔

انسان دو صفتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اچھی، نیک ،بہتر اور عمدہ تو دوسری خراب ،بدتر،بری اور گھٹیا ۔مگر حقیقت میں انسان وہی ہے جسے اچھی صفت اوربہتر زندگی گذارنے کا سلیقہ و طریقہ آجائے۔ انسان خیروشر کا مجموعہ ہے،تو اسی طرح اس کے لیے ملکی قوانین اور شرعی حدود بھی ہیں۔اگر انسان اچھا کام کرتا ہے تواس کے لیے جزا اچھی ،بہتر اور عمدہ ہے،اور اسے انعام و اکرام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ اس کی تعریف و توصیف کے ترانے گائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر انسان برا کام کر تا ہے توبدلہ بھی برا ہی ملتا ہے۔اس کو سزا دی جاتی ہے۔فیصل اسے جیل،کوڑوں اور قیدوبند کی سزا سناتا ہے۔ جگہ جگہ اس کی برائی کے چرچے ہوتیہیں۔

اسی طرح سے اگر کوئی اسلام کا ماننے والا یعنی کہ مسلمان اگر شرعی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے بھی قرآن وحدیث ،فقہ و مسائل کی روشنی میں سزادی جائے گی جیسا کہ کلام مقدس میں چور کی سزا کا ذکر ہے۔السارق والسارقہ فاقطعو اایدیھما جزاء بما کسب۔ چور اور چورنی کے ہاتھ کاٹے جائیں سزا کے طور پر،اور اسی طرح سے زانی اور زانیہ کے لیے کلام مقدس میں جو سزا واردہوئی ہے وہ اس طرح سے ہے الزانیہ والزانی فاجلدو کل واحد منھما ماۂہ جلدہ۔زانی اور زانیہ میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارے جائیں۔یہ تو شرعی حدود کی خلاف ورزی کا نتیجہ اور فیصلہ ہے۔مگر اگر مسلمان نیک کام ،عمدہ اوراچھا کام کرتا ہے اور شرعی حدود میں رہ کر زندگی گذارتا ہے تو اس کا فیصلہ کلام مقدس میں یوں ہے،ان الذین آمنوا و عملو الصلحت کانت لھم جنت الفر دوس نزلا۔بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔

الغرض کلام مجید اور حدیث شریف میں زندگی کو بہتر طریقے سے گذارنے کادرس دیا گیا ہے۔اچھائی پر انعام اور برائی پر سزا کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔کہیں پر آیا ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان۔احسان کا بدلہ احسا ن ۔ان اللہ یحب المحسنین۔بے شک اللہ تعا لی بھلائی کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔
فیصلہ کرنے والے کو فیصل، منصف، حاکم،جج اور حکم بھی کہا جاتا ہے۔فیصلہ میں عدل و انصاف ،گواہان کی موجودگی،مدعی اور مدعاعلیہ کی باتوں کو سننا اور بغیر جانبداری کے فیصلہ سنا یا جائے تاکہ منصف ،فیصل عادل،حا کم ،جج اور عدالت پر لوگوں کا بھروسہ برقرار رہے۔
(مضمون نگار یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ریسرچ اسکالر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *