جسٹس شاہ نے جے این یو کمیٹی کی کاروائی پرلگایا سوالیہ نشان

جے این یو میں انتظامیہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سلسلے میں اجتماعی مباحثہ کا انعقاد
jnuنئی دہلی،۲۲؍ مارچ (نامہ نگار) پچھلے کچھ مہینوں سے جس طرح جے این یو جیسی عظیم دانشگاہ کو حکومت نے نشانہ بنایا ہے،وہ نہایت ہی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ دستور ہند کی طرف سے دی گئی آزادی کو چھینا جارہا ہے،صرف کسی خاص نعرہ اور بات کی وجہ سے کوئی غدار وطن یا محب وطن نہیں ہوتاہے ۔وطن کی محبت نعرے اور بات سے کہیں آگے ہے، جو لوگ آج تشدد پھیلا تے ہیں اور وطن کی دولت کو لوٹ رہے ہیں درحقیقت وہ غدار ہیں اوران پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔گذشتہ دنوں جو کچھ پٹیالہ کورٹ میں ہوا وہ تاریخ کا بہت ہی شرمناک حادثہ ہے ،لیکن تعجب ہے کہ دہلی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ نے آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے آزادی اسکوئر پر اساتذہ یونین کی طرف سے منعقدہ ایک اجتماعی مباحثہ میں کیا۔

جے این یو انتظامیہ کی طرف سے ۹؍ فروری کے واقعہ کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے سے ہوئے اس اجتماعی مباحثے میں جج کے طور پر اے کے شاہ کے علاوہ مشہور ماہر قانون پروفیسر ڈاکٹرمرینال ستیش اورمشہور وکیل وریشافراست شریک ہوئے۔ پروفیسرسچیدانند سنہا نے انتظامیہ کے موقف اور رویہ کو سامنے رکھا،جبکہ پروفیسر جی ارونیما،پروفیسراوینش کمار اورپروفیسررجت دتانے کمیٹی کی تشکیل اور اس کی کاروائی کے بارے میں قانونی طور پر جوخرابیاں تھیں اسے سامنے رکھا۔ دونوں جانب کے دلائل اور ثبوتوں کو سننے کے بعداے کے شاہ نے کہا کہ انتظامیہ نے جب طلبہ کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقعہ نہیں دیا گیااور نہ کوئی ثبوت پیش کیے تو پھر انہیں کس طرح یونیورسٹی سے بے دخل کردیاگیا،اور نہ ملزم کو یہ جانکاری ملی کہ ان کاجرم کیا ہے،اور ان پر کیا کاروائی ہوگی؟جبکہ مرینال ستیش نے کہا کہ کمیٹی کو قانونی اور دستوری طور پر کام کرنا چاہیے،من مانا ڈھنگ سے کسی کے خلاف قدم اٹھانا اور پھر انہیں بغیر ثبوت کے یہ کہناکہ آپ کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی جائے ،غلط ہے۔ اخیر میں اساتذہ یونین کے جنرل سکریٹری نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ اداکیا۔ jnu 1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *