اقدار کی حد پار نہیں کی جائے

آشا ترپاٹھی
جوینائل بل پر پارلیمنٹ میں ۲۲ دسمبر کو ہوئی بحث کے دوران ایک رکن پارلیمنٹ بار بار حد پار کرتے نظر آئے. Asha Tripathiسنگین جرم کی صورت میں نابالغ کو بھی بالغ کے درجے میں رکھے جانے کی بحث کے دوران یہ نظارہ دیکھنے کوملا. مہاراشٹر سے بی جے پی کے ساتھی رام داس اٹھاولے نے بحث کے دوران کچھ ایسی باتیں کہیں، جس پر کئی ممبران پارلیمنٹ نے اعتراض درج کرایا. اٹھاولے نے کہا “وہ جن کی جنسی ضروریات ہیں، انہیں سبق سکھایا جانا چاہیے.” انہوں نے پارلیمنٹ میں جو باتیں کہیں اس کا کوئی جواز نہیں تھا. بہتر تو یہ ہوتا کہ جوینائل بل پرعمل کیا جاتا، بحث نہیں. غور طلب ہے کہ اٹھاولے قانون میں کی جا رہی تبدیلی کے حق میں بول رہے تھے تاکہ آبروریزی اور قتل جیسے سنگین جرائم کی صورت میں ۱۶ سال یا اس سے زیادہ کے نابالغ کوبھی بالغ کی طرح ہی سزا دی جا سکے. اس دوران اٹھاولے نے ایک ایسے لفظ کا بھی استعمال کیا جسے کارروائی سے نکالنا پڑا. بعد میں جوینائل بل کو ایوان بالا نے منظور کیا. ویسے اٹھاولے نے تقریر کی ابتدا تو ٹھیک کی، لیکن بعد میں بھٹک گئے. انہوں نے کہا “قانون ایسا ہے کہ اگر ۱۸ سال سے کم عمر کا شخص کوئی جرم کرتا ہے تو ہم اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے.” انہوں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے وقت کوئی بھی اس طرح کا جرم نہیں کر سکتا تھا. اس کے ہاتھ پیر توڑ دیے جاتے تھے. قانون میں اس طرح کی دفعات ہونی چاہیے کہ ہم عصمت دری کرنے والوں کے ہاتھ پیر توڑ سکیں. یاد رہے کہ ۵۵ سالہ اٹھاولے ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے صدر ہیں. وہ ۲۰۱۴ میں راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں. سن ۲۰۰۹ کے عام انتخابات میں ہارنے سے پہلے وہ قریب ایک دہائی تک لوک سبھا کے رکن رہے. سال ۲۰۱۱ سے اٹھاولے این ڈی اے کا حصہ ہیں.
لوک سبھا میں کافی پہلے منظورہو چکا جوینائل جسٹس بل ۲۲/ دسمبر ۲۰۱۵ کو آخرکار راجیہ سبھا میں صوتی ووٹوں سے پاس ہو گیا. اب یہ بل صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا. اس بل میں سنگین جرم کے معاملے میں ۱۶ سے ۱۸ سال کی عمر کے نابالغ کو بالغ تصور کیا جائے گا. موجودہ قانون کے تحت ۱۸ سال سے کم عمر کے مجرم کو نابالغ سمجھا جاتا ہے. نئے بل میں کہا گیا ہے کہ عصمت دری، قتل اور ایسڈ اٹیک جیسے خطرناک جرائم میں ملوث بچوں کو بالغ مانا جائے گا. سنگین جرم کرنے والے بچوں پر کیس عام عدالتوں میں اور بالغوں کے لیے بنائے گئے قانون کے مطابق ہی چلے گا. دراصل، گذشتہ دنوں نابالغ مجرم کی رہائی کے خلاف مظاہرہ کی قیادت کر رہے نربھیہ کے والدین نے ۲۱ دسمبر کو کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں اعتماد دلایا کہ ان کی پارٹی اس بل کی حمایت کرے گی. نئی دفعات کے مطابق سنگین جرم میں ملوث بچوں کو بالغ مانا جائے گا. لوک سبھا میں یہ بل مئی ۲۰۱۵ میں پاس ہوگکر دیا یا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں ہنگامہ کی وجہ سے اسے پیش نہیں کیا جا سکا تھا. اس سب کے باوجود اس بل کے پاس ہونے کا اثر نربھیہ کیس پر نہیں پڑے گا البتہ آنے والے وقت میں ایسے دوسرے مجرم آسانی سے نہیں چھوٹ سکیں گے. موجودہ قانون کے مطابق اگر کوئی نابالغ سنگین جرم کا مجرم ہوتا ہے تو اسے تین سال تک اصلاح گھرمیں رکھنے کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے. جوینائل جسٹس بل میں کئی اہم ترمیمات کی گئی ہیں. نئے بل کے مطابق اگر جرم سنگین ہو یعنی آئی پی سی کی دفعہ میں اس کی سزا سات سال یا اس سے زیادہ ہو تو ۱۶ سے ۱۸ سال کی عمر کے نابالغ کو بھی بالغ تصور کیا جائے گا. اس کے علاوہ نابالغ کوعدالت میں پیش کرنے کے ایک ماہ کے اندر ‘جوینائل جسٹس بورڈ’ کو یہ جانچ کرنا ہو گا کہ اسے ‘بچہ’ مانا جائے یا ‘بالغ’. بالغ مانے جانے پر نوعمر کو مقدمے کے دوران بھی عام جیل میں رکھا جائے گا. سزا بھی زیادہ سے زیادہ ۱۰ سال ہی ہو سکتی ہے.
ہندوستان کے بدنام ترین عصمت دری معاملوں میں سے ایک دہلی عصمت دری واقعہ کا نابالغ مجرم ۲۰ دسمبر کو رہا ہو گیا جس سے ملک میں موجود نابالغ انصاف قانون یعنی جوینائل جسٹس ایکٹ کے سلسلے میں سوال کھڑا ہوا. نابالغ مجرم کی رہائی کی مخالفت کر رہے لوگوں کا کہنا تھا کہ جب کوئی نابالغ اتنی درندگی کے ساتھ جرم کو انجام دے سکتا ہے تو اسے معصوم کس طرح مانا جائے؟ اسے سزا کیوں نہیں دی جا سکتی؟ خاص بات یہ بھی ہے کہ نربھيا سانحہ کے بعد جوینائل جسٹس ایکٹ میں موجود نابالغ مجرموں کی عمر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوا تو اس وقت کی حکومت نے جسٹس ورما کمیٹی تشکیل دی جس نے جوینائل جسٹس ایکٹ میں ترمیم کے لیے اہم تجاویز دیں. جسٹس ورما کی تجاویز کی بنیاد پر نابالغ ہونے کی عمر دو سال کم کرکے ۱۶ کرنے کے ساتھ ہی نئے جوینائل قانون کا مسودہ بنا تھا. اس قانون کو موجودہ حکومت نے مئی ۲۰۱۵ میں لوک سبھا سے پاس کرانے کے بعد ۲۲ دسمبر ۲۰۱۵ کو راجیہ سبھا میں بھی منظور کرالیا. بھارت کا یہ نیا قانون دنیا کے کچھ اہم ملکوں میں موجود سخت قوانین میں سے ایک ہو گا. ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نوعمریا بچہ مجرموں کے لیے کوئی ایک قانون نہیں بلکہ یہاں مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں. کچھ ریاستوں میں چھ سے ۱۰ سال کے بچوں کو ہی بچہ مجرم سمجھا جاتا ہے جنہیں کسی قسم کی سزا نہیں ہوتی. بچوں، نوجوانوں کے لیے فرانس میں بھی ایک قانون ہے. یہاں سات آٹھ سال کے بچے کو کسی قسم کا مجرم نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ برے بھلے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا. یہاں آٹھ سال سے ۱۳ سال کے بچہ جرم کو نوعمر مجرم سمجھا جاتا ہے جسے سزا کے طور پر کچھ دن کے لیے سدھارگھر بھیجنے یا خصوصی تعلیم دلانے کا بندوبست ہے.
فرانس کے جوینائل قانون میں ۱۳ سے ۱۸ سال کے نوجوان مجرموں کو جرم کی سنجیدگی کے حساب سے سزا دینے کی تجویز ہے. برطانیہ میں نابالغ مجرموں کی عمر کی بات کریں تو یہاں ۱۹۹۸ تک ۱۰ سے ۱۳ سال تک کے بچوں کو ہی بچہ مجرم سمجھا جاتا تھا اور انہیں کسی قسم کی سزا نہیں دی جاتی تھی لیکن بعد میں یہاں ۱۰ سے ۱۷ سال تک کے نوعمر کو جرم کرنے کی صورت میں مجرم مانا گیا. برطانیہ میں ۱۰ سے ۱۷ سال کے مجرموں کو سنگین جرم کرنے پر کچھ وقت کے لیے سدھارگھر بھیجنے یا اصلاح کی سہولت ہے جبکہ ۱۷ سال سے زیادہ عمر کے مجرموں کو کسی بھی قسم کا جرم کرنے میں کوئی رہائی نہیں ہے. چین میں ۱۴ سے ۱۸ سال تک کے نوعمر کو جرم کرنے کی صورت میں نابالغ مجرم مانا جاتا ہے لیکن سنگین جرم کرنے پر نابالغ مجرم کو بھی عمر قید کی سزا دینے کی تجاویزہیں. سال ۲۰۱۲ میں ہوئی یہاں کے جوینائل قانون میں اصلاح کے بعد ۱۴ سال سے کم عمر کے بچے کو مجرم نہیں مانے جانے کا انتظام کیا گیا ہے. روس میں بھی نوعمر مجرموں کے عمر کی حد اور سزا ہندوستان کی بنسبت سخت ہے. یہاں سنگین جرم کرنے والے ۱۴ سال تک کے بچے کو نابالغ مجرم سمجھا جاتا ہے جبکہ ۱۴سے ۱۶ تک کی عمر میں عام جرم کرنے پر سدھارگھر بھیجنے کی تجویز ہے. یہاں اگر جرم کرنے والے کی عمر ۱۴ سے ۱۶ کے درمیان ہے اور اس نے سنگین جرم کیا ہے تو اسے بالغ مجرموں کی مانند ہی سزا دیے جانے کا نظم ہے. بہر حال، اب تو جو ہونا تھا، ہو گیا. بہتر یہ ہوتا کہ اس پر بحث نہ ہوتی اور بات چیت کے دوران کم سے کم اقدار کی حد نہ پار کی جاتی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *