کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار و مشاعرہ اختتام پذیر

پٹنہ. (پریس ریلیز) ۔کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام دوروزہ قومی سیمینار و مشاعرہ کے دوسرے دن آج شاندا ر مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا،مشاعرہ شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں منعقد ہوا۔افتتاحی سیشن میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر فروفیسر راس بہاری نے شرکت کی۔ انہوںنے مشترکہ تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ شاعری نے ہر زمانے میں مشترکہ کلچر اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیاہے۔  انہوںنے کہاکہ ہندستان ،پاکستان کا بٹوارہ ایک سمجھوتہ تھا اور سیاست کی بنیاد پر ہواتھا، زبان کی بنیاد پر نہیں۔ سیاست سرحد تو تقسیم کرسکتی ہے ، زبان وتہذیب کو تقسیم نہیں کرسکتی۔

معروف صحافی وادیب ڈاکٹر ریحان غنی نے اردو زبان کی اہمیت وافادیت پر خطبہ پیش کیا۔انہوں نے یوم مادری زبان کے موقع پر کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ کی طرف سے منعقدہ دوروزہ پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی،انہوں نے ریاستی اور قومی سطح پر اردو زبان کی مجموعی صورتحال پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمینی سطح پر اردو کے فروغ کی کوششیں ضروری ہیں،انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر اردو کی صورتحال اطمنان بخش نہیں ہے،اسکولوں میں اردو تدریس کا معقول انتظام نہیں ہے،ڈاکٹر ریحان غنی نے امید ظاہر کی کہ اردو کے فروغ میں کیف عظیم آبادی میموریل ٹرسٹ مثبت اور تعمیری پیش رفت کرے گا۔ٹرسٹ کے ڈائرکٹر محمد آصف نواز نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرہ کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے،اس نے زبان،ادب اور تہذیب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے،آج بھی مشاعرہ کی عوام وخواص کے دلوں پر حکمرانی ہے،مجھے بے حد خوشی ہو رہی کہ کیف عظیم آبادی ٹرسٹ کے زیراہتمام دو سالوں سے لگاتار مشاعرہ کا اہتمام کیا جارہا ہے اور انشاء اللہ یہ سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ ، ڈاکٹر جاوید حیات نے کہا کہ زبان خدا کی نعمت ہے، ہمیں اس کی ترویج واشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ انہوںنے مزید کہاکہ شاعری اردو ادب کا گرانمایہ حصہ ہے جسے کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔اورڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے بھی مشاعرہ کی اہمیت پر مختصر اظہار خیال کیا ، اس موقع پر ڈاکٹر زرنگار یاسمین نے مالی تعاون کے لئے بہار اردو اکادمی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگ ہماری تحریک سے جڑیں اور پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ اردو کے فروغ کے لئے مل جل کر کام کریں۔ کہنہ مشق اور بزرگ شاعر پروفیسر طلحہ رضوی برق کی صدارت میں منعقدہ مشاعرہ میں شعراء حضرات نے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا،اور خوب داد تحسین وصول کیا،مشاعرہ کی نظامت مشہور افسانہ نگار فخر الدین عارفی نے کی۔شعراء کے منتخب کلام درج ذیل ہیں۔

یہ چادر زندگی کی برق میلی ہو نہیں سکتی

کہ اس میں تانا ہے اللہ کا ،بانا محمد کا(طلحہ رضوی برق)

عظمت رفتہ کے کچھ نقوش منور تو رہیں

اپنی تہذیب کو تم اور بر ہنہ نہ کرو(سلطان اختر)

اپنی سانس پر قائم یہ زمیں ہے کتنی دیر

جہاں بھی ہوتے ہیں آسماں نہیں ہوتا(خورشید اکبر)

تاریخ قصیدے کی لکھنے کو قلم آتے

کچھ خواب لئے ہم بھی تب سو گئے حرم آتے(شمیم قاسمی)

جو ہے عروج تو امکاں ہے بگڑنے کا

تمہارے سامنے اک آئینہ ضروری ہے(اثر فریدی)

اس دھوپ کی شدت میں پیراہن تم آتے

آواز تو دی ہوتی ،ہم تیری قسم آتے (تحسین روزی)

خواب ہو،دل ہو،امیدیں ہو کہ آئینہ صبا

ٹوٹنے والی کسی شئے پہ بھروسہ نہ کرو(کامران غنی صبا)

اس دوران فرعونی میں مل جائے اگر موسی

تاریخ رقم کرنے سونے کے قلم آجاتے(اسرائیل رضا)

رات دن جھوٹی محبت کا تماشا نہ کرو

دل فدا کردو مگر سر کو جھکایا نہ کرو(مظہر وسطوی)

شدت کفر سے بڑھکر ہے منافق ہونا

اپنے چہرہ پہ نیا چہرہ لگایا نہ کرو(نصر بلخی)

آتش ہجر میں جلنا ہے گوارا مجھکو

سر بازار محبت کو تماشا نہ کرو(حذیفہ شکیل)

کہ میں نے ٹھکرایا زمانے کو تمہاری خاطر

مجھکو مشکوک نگاہوں سے تو دیکھانہ کرو

(معین گریڈیہوی)

خود کو اے جان وفا اتنا بھی رسوا نہ کرو

تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو

(ضیاء العظیم )

تھے چور بہت غم سے آئے ہیں یہاں ورنہ

میخانے میں اے ساقی یو ں کاہے کو ہم آتے

(یوسف جمیل)

وفا کا صلہ جو جفا مل رہاہے

محبت میں یہ سب گوارہ کروں میں

(عارف حسین نوری)

دولت وزر ہوکہ عہدہ ہوکہ رشتہ داری

ان سے مجرم انا ہوتو گوارہ نہ کرو

(نیاز نذر فاطمی)

معصومہ سے سہ دینا اے نامہ تیرے چپکے

میرے لئے بھی ان کے رشحات قلم آتے

  • (معصومہ خاتون)
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *