کنہیا کمار پر حملہ کی ہوئی کوشش

Kanhaiya Kumar

 نئی دہلی، ۱۵؍ مارچ (نامہ نگار): جواہرلعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار پر اس وقت ایک شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی جب وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر ایک گاڑی پر کھڑے ہوکر پولس کی سیکورٹی میں ’آزادی مارچ‘ میں شامل ہوئے لوگوں سے خطاب کررہے تھے۔

گاڑی کے بہت نزدیک کالی رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ایک نوجوان ہاتھ اٹھاتے ہوئے تیزی سے کنہیا کمار کی طرف لپکا، لیکن وہاں موجود پولس اور دوسرے لوگوں نے اس کو فوراً دبوچ لیا۔ اس سے وہاں تھوڑی افراتفری مچی، مگر کنہیا نے سبھی لوگوں سے یہ کہتے ہوئے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی کہ جب تک آپ لوگ ہمارے ساتھ ہیں، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس پر وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے تالیاں بجاکر کنہیا کا ساتھ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس سے پہلے گاڑی کی بائیں جانب یعنی پارلیمنٹ تھانہ کے مخالف سمت میں نیلے رنگ کی شرٹ پہنے ایک شخص نے اس طرح ’بھارت ماتا‘ کا نعرہ لگایا جیسے وہ اسی نعرے کو حب الوطنی کا پیمانہ بنا کر آیا ہو۔ اس کے اس نعرہ پر وہاں بیٹھے بہت سے لوگوں نے بھی ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہا۔

اس احتجاجی مارچ کے دوران اس وقت بھی ہنگامہ کرنے کی کوشش کی گئی جب معروف مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے تقریر کررہی تھیں۔ کنہیا کمار نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ سبھی اطمینان سے رہیں، کیونکہ جو لوگ یہاں ہنگامہ کرنے آئے ہیں، ان کو دیکھ کر پورا ملک یہ سمجھ لے گا کہ کون کیا چاہتا ہے۔