شہری علاقوں میں چوبیس گھنٹے بجلی فراہمی کا دعویٰ

محمد امین نواز
بیدر:
کرناٹک کے وز یر توانائی ڈی کے شیو کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں ۲۲؍ سے ۲۴؍ گھنٹے تک روزانہ بجلی کی فراہمی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا سامان خریدنے میں ہوئے ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی ایوان کمیٹی ۱۵؍اپریل تک رپورٹ پیش کردے گی۔ واضح رہے کہ انکوائری رپورٹ میں تاخیر کے خلاف جنتادل(ایس) کے ایچ ڈی ریوناکی قیادت میں پارٹی کے ارکان نے اسمبلی میں دھرنا دیاتھا۔ تفصیلات کے مطابق وقفہ سوالات کے بعد ایچ ڈی ریونا یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمار سوامی نے دوسال قبل یہ مسئلہ ایوان میں اٹھایا تھا اور ا س وقت کے ڈپٹی اسپیکر سے ایوان کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپیکر نے شیو کمار کی صدارت میں کمیٹی قائم کردی تھی، لیکن آج تک رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے رپورٹ فوری طور پر ایوان میں پیش کرنے کی کوشش کی جس کی جنتا دل (ایس) کے دیگر ارکان نے حمایت کی۔ کرناٹک کے وزیراعلی سدا رمیا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی ۱۵؍ اپریل تک رپورٹ پیش کریں گے، اس لیے دھرنا واپس لیا جانا چاہیے۔ اس یقین دہانی کے بعد جنتا دل (ایس) کے ارکان اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔ اس سے قبل شیو کمار نے کہا کہ ایوان کمیٹی کی کئی بار میٹنگ ہوئی، لیکن ایچ ڈی کمار سوامی ایک بار بھی اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں پہنچے۔ اسی طرح بی جے پی کے ارکان نے بھی اپنی رائے پیش نہیں کی جبکہ کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کو اپنی رائے رکھنی چاہیے۔ اگر میٹنگ میں نہیں آسکے تو تحریری طورپر رائے بھیجی جاسکتی تھی۔ ایسا نہیں ہوا۔ اب دونوں جماعتوں کے ارکان کوماہ کے اختتام تک اپنی رائے بھیجنے کا وقت دیا گیا ہے۔ وزیر توانائی نے یقین دلایا کہ جون کے مہینے کے آخر تک ریاست کے کسی بھی شہر یا قصبے میں بجلی کی کمی نہیں ہوگی۔ امتحان کے وقت طلباء کو بجلی کی کٹوتی کا سامنا نہیں کرنا پڑے، اس کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی کے اروند لمباولی کے سوال پر وزیر موصوف نے کہا کہ مسلسل خشک سالی کے باوجود کہیں بھی بجلی کا مسئلہ نہیں ہے۔ بجلی کی کمی کو دور کرنے کے لیے ایک ہزار میگا واٹ بجلی خریدی جارہی ہے۔ شہری اور قصباتی علاقوں میں روزانہ۲۲ ؍ سے۲۴؍ گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ دیہی علاقوں میں آب پاشی کے لیے روزانہ سات گھنٹے تھری فیز بجلی دو مراحل میں سپلائی کی جا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک سنگل فیز بجلی دی جارہی ہے۔ وزیر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کئی پلانٹوں میں تکنیکی خرابی آنے سے بجلی کی پیداوار اور سپلائی میں رکاوٹ آنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مارچ اور اپریل میں طلباء کے امتحانات ہوتے ہیں، اس وجہ سے خاص خیال رکھا گیا ہے کہ بجلی کی کٹوتی نہ ہونے پائے۔ شرواتی ڈیم کی مرمت شروع کرنے کے لیے ذخائر میں جمع پانی سے بجلی کی پیداوار کی جارہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ برسات کے موسم میں بھی اچھی بارش نہیں ہوئی تو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تنگبھدرا ذخائر میں نمی کی وجہ سے رائچور تھرمل پاور اسٹیشن میں بجلی کی پیداوار روکنا پڑا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *