کرناٹک کا سیاسی اتحاد ملک کے لیے نئی مثال پیش کرے گا: کمارسوامی

بنگلورو: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے جمعہ کو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے کے دو دن بعد ہی انہوں نے ایوان میں اعتماد کی تجویز پیش کی جس کے حق میں ۱۱۷؍ اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے۔ اسمبلی انتخابات میں ۱۰۴؍ سیٹوں پر جیت حاصل کرنے والی بی جے پی کے اراکین اعتماد کی تجویز پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ ایوان سے واک آؤٹ کرنے کے بعد بی جے پی قانون سازیہ پارٹی کے لیڈر بی ایس یدیورپا نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے اتحاد کو ’ناپاک گٹھ بندھن‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حکومت زیادہ دنوں تک نہیں چلے گی۔
ادھر ایوان میں اعتماد کی تجویز پیش کرنے کے بعد تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا کہ وہ خوشی سے یہ عہدہ نہیں سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے دکھ ہے کہ کرناٹک کے عوام نے مجھ پر بھروسہ نہیں جتایا۔ لیکن انہوں نے کسی کو بھی اکثریت نہیں دی۔ ‘وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :’ عوام نے آپ کو ۱۰۴؍ سیٹیں ضرور دی ہیں، لیکن وہ اکثریت نہیں ہے۔مجھے احساس ہے کہ ہم اکثریت کی حکومت نہیں چلا رہے ہیں۔ ہم اپنے مفاد کی خاطر اقتدار میں نہیں آئے ہیں۔‘ ایچ ڈی کمار سوامی نے اس کے ساتھ ہی اعتماد ظاہر کیا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کی حکومت اپنی پوری مدت مکمل کرے گی اور سیاسی اتحاد کی ایک نئی مثال پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا: اب ہمیں سیاست ترک کرکے ریاست کی چوطرفہ ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کانگریس کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور نے بدھ کو اپنے عہدے کا حلف لینے کا بعد کمار سوامی کی قیادت والی حکومت کے پانچ سال چلنے کے تعلق سے پوچھے گئےایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس بارے میں ان کی پارٹی  نے
ابھی کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔
یاد رہے کہ کرناٹک کی ۲۲۴؍ رکنی اسمبلی کے لیے ۱۲؍ مئی کو ۲۲۲؍ سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اس کے نتائج کا اعلان ۱۵؍ مئی کو کیا گیا۔ اس میں بی جے پی ۱۰۴؍ حلقوں میں جیت کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ کانگریس کو ۷۸؍ اور جنتادل سیکولر کو محض ۳۸؍ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔کانگریس نے بلاتاخیر جے ڈی ایس کو حمایت دینے کا اعلان کیا۔ جے ڈی ایس نے اس کو قبول کرتے ہوئے گورنر کے پاس جاکر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ۔ لیکن گورنر نے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کیا۔ بی ایس یدیو رپا نے ۱۷؍ مئی کو صبح وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر انہیں ۱۹؍ مئی یعنی ہفتہ کو شام ۴؍ بجےتک ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا ۔ اس کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔ لیکن اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے پہلے ہی بی ایس یدیورپا نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ ان کے استعفیٰ کے بعد گورنر وجوبھائی والا نے جے ڈی ایس کے رہنما ایچ ڈی کمار سوامی کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے بدھ کو سونیا گاندھی، راہل گاندھی، مایاوتی، اکھیلیش یادو، تیجسوی یادو، شرد یادو، اروند کیجریوال، این چندرابابو نائیڈو اور دیگر کئی اہم لیڈروں کی موجود گی میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔
کرناٹک میں غیربی جے پی حکومت کی تشکیل کو وزیر اعظم مودی کے مخالفین کے متحد ہونے کی سمت میں ایک بڑا اور اہم واقعہ مانا جاتا ہے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *