کٹیہارمیں ایک شراب تاجر کا گولی مار کرقتل

کٹیہار، ۱۴؍نومبر:(اسدالرحمن) یہاں شہر میں ۱۳؍نومبر کی رات کو بائک پر سوار چار نامعلوم افراد نے ایک شراب تاجرکو گولی مار کر اسے ہلاک کردیا۔مقتول کا نام شمبھو نائک تھا۔یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب شمبھو شہر کے تھانہ علاقہ میں واقع نیا ٹولہ میں اپنی شراب کی دکان کے باہر کھڑے تھے۔مجرموں نے شراب تاجر کو دو گولیاں ماریں اور وہاں سے فرار ہوگئے۔

اس واقعہ کے فوراً بعد شمبھو کے رشتہ داروں نے اسے صدراسپتال پہنچایا لیکن وہاں نہ تو کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی ایمبولینس کی سہولت ۔اس سے ناراض ہوکر شمبھو کے رشتہ داروں نے اسپتال میں جم کر ہنگامہ کیا۔اس موقع پر وہاں ضلع کے اعلیٰ پولس اہلکار اور کٹیہار اسمبلی حلقہ سے حال ہی میں منتخب بی جے پی کے رکن اسمبلی تارکشور پرساد کے علاوہ علاقہ کی کئی بڑی شخصیات بھی موجود تھیں۔جرائم کو روک پانے میں پولس کی ناکامی سے شہر کا کاروباری طبقہ خوف وہراس کے عالم میں ہے۔کاروباریوں کا کہنا ہے کہ پولس جرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہورہی ہے۔شہر اور آس پاس کے علاقے میں آئے دن مجرمانہ واقعات کے پیش آنے سے لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کررہے ہیں۔

واضح ہوکہ شمبھو نائک شہر کے ایک معروف شراب تاجر تھے۔ان کے قتل کے بعد ناراض لوگوں نے کٹیہار بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شمبھو کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے دو تین دن پہلے فون کرکے اس سے دو لاکھ روپے کی رنگداری مانگی تھی اورایسا نہیں کرنے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی تھی۔رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ شمبھو نے رنگداری کے پیسے نہیں دیے اس لیے اسے ہلاک کردیا گیا۔ اس دوران پولس نے قاتلوں کی شناخت کرلینے کا دعویٰ کیا ہے مگر ابھی تک کسی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے۔ غورطلب ہے کہ چند روز قبل ضلع کے کوڈھا تھانہ علاقہ میں بم پھینک کر چار لوگوں کو زخمی کردیا تھا۔اس سے پہلے سیمپور علاقے میں ایک شراب تاجر سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے لوٹ لیے گئے تھے۔ کٹیہار میں جرائم کی بڑھتی واردات سے مقامی باشندہ اور خاص طور سے کاروباری طبقے میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔اس ضلع میں جرائم پر قابو پانا پولس اور انتظامیہ کے لیے ایک بڑی چنوتی بن گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *