خلیق انجم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

خلیق انجم کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر کا اظہار تعزیت

نئی دہلی: اردو کے ممتاز محقق، ماہر غالبیات اور انجمن ترقی اردو (ہند) کے سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹر خلیق انجم کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیق انجم کے انتقال سے غالب شناسی کے ایک باب کا خاتمہ ہوگیا۔ غالب کی بازیافت اور تحقیق کے ضمن میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ خلیق انجم نے غالب کی مختلف فنی اور فکری جہتوں کے حوالے سے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کی وجہ سے انہیں غالب شناسوں میں ایک امتیاز حاصل ہے۔ پانچ جلدوں میں غالب کے خطوط کا مجموعہ اپنے آپ میں ایک بے نظیر کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ انہو ںنے غالب کی نادر تحریریں، غالب اور شاہان تیموریہ، غالب کچھ مضامین جیسی کتابوں کے ذریعے غالبیات کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ خلیق انجم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ان کی مرنجاں مرنج شخصیت کوکوئی بھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بے حد خلیق اور متواضع انسان تھے اور اردو دنیا کی سمت و رفتار سے بھی باخبر تھے۔ انجمن ترقی اردو ہند کے دفتر میں ہند و پاک کے شاعروں و ادیبوں کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد بہت اہتمام کے ساتھ کرتے تھے۔

ڈاکٹر خلیق انجم
ڈاکٹر خلیق انجم

انہوں نے خلیق انجم کی اردوخدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دائرۂ کار بہت متنوع اور وسیع تھا۔ انہوں نے کلاسیکی شاعرمرزا مظہرجان جاناں پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان کے فارسی خطوط کے ترجمے بھی کیے۔ متنی تنقید پر بھی ان کا تحقیقی کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے۔ انہوں نے صرف ادیبو ں اور شاعروں پر ہی کتابیں مرتب نہیں کی بلکہ دہلی کے تاریخی آثار و باقیات پر بھی بہت مستند کام کیا ہے۔ سرسید کے ’آثارالصنادید‘ کی ترتیب و تدوین، دلی کے آثار قدیمہ، مرقع دہلی، رسومِ دہلی جیسی کتابوں کی ترتیب کے ذریعے انہوں نے دہلی کی تہذیب و تاریخ سے عوام و خواص کو روشناس کرانے کی جو کوشش کی ہے وہ یقینا قابل قدر ہے۔ تاریخ اور آثار قدیمہ پر ان کی گہری نظر تھی۔ اسی لیے تاریخ اور آثار قدیمہ سے متعلق انہوں نے یہ کام بہت ہی انہماک وارتکاز کے ساتھ کیا۔

پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ خلیق انجم نے اردو زبان کے تحفظ اور بقا کے لیے جو جدوجہد کی ہے اسے بھی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وہ گجرال کمیٹی کا بھی حصہ تھے اور اردو زبان کے فروغ اور توسیع کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ انجمن ترقی اردو ہند کے پلیٹ فارم سے بھی انہوں نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے۔

قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر نے کہا کہ خلیق انجم اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں تھے۔ وہ اکثر اپنی تقریروں میں کہتے تھے کہ اردو کبھی نہیں مرسکتی۔ ماضی میں بھی اس زبان نے چنوتیوں کا مقابلہ کیا ہے اور مستقبل میں بھی کرتی رہے گی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے خلیق انجم کی وفات کو اردو تحقیق و تنقید کا ایک بڑا خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تحقیقی اور تنقیدی کارنامہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ثبت رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *