پاکستانی جیل سے کرپال سنگھ کی لاش ملک واپس لائی گئی

Kirpal Singh

گرداس پور، ۲۰ اپریل (ایجنسی): پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ ۱۱ اپریل کو مشکوک حالت میں مردہ پائے گئے ہندوستانی قیدی کرپال سنگھ کی لاش کو آج اس کے آبائی گھر مصطفیٰ باد میں آخری رسومات کے لیے واپس لایا گیا۔

کرپال سنگھ کی لاش کالے کفن میں جیسے ہی اس کے گاؤں پہنچی، رشتہ داروں نے ماتم کرنا شروع کر دیا۔ لاش کو کل واگھہ سرحد پر ہندوستانی حکام کے سپرد کیا گیا تھا۔

کرپال کی موت کس طرح ہوئی، اس کو لے کر ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے، حالانکہ لاش کا امرتسر میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا، تب بھی ڈاکٹر کسی نتیجہ پر پہنچنے میں ناکام رہے۔

تین ڈاکٹروں کی جس ٹیم نے لاش کی جانچ کی، ان کا کہنا تھا کہ جانچ کے دوران کرپال کے جسم پر اندرونی یا بیرونی کسی قسم کے زخم کا کوئی بھی نشان نہیں ملا ہے۔

تاہم، لاش سے دل اور پیٹ کے حصے غائب تھے، جنھیں لاہور کے جناح اسپتال میں پہلی آٹوپسی کے دوران نکال لیا گیا تھا۔ پاکستانی اہل کاروں کا دعویٰ تھا کہ کرپال کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے، جب کہ ہندوستانی اہل کاروں کو شک ہے کہ اس کا قتل کیا گیا ہے۔

Kirpal Singh Family

ہندوستان نے پاکستان میں اعلیٰ سطح پر کرپال کی موت کے مدعے کو اٹھانے کا ارادہ کیا ہے۔ کرپال کی فیملی نے بھی اسے قتل کیے جانے کا الزام لگایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ انھیں سونپی جائے۔

کرپال سنگھ کو ۱۹۹۱ میں پاکستانی حکام نے جاسوسی کرنے اور پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کا یہ بھی الزام تھا کہ کرپال سنگھ ۱۹۹۱ میں فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکہ میں ملوث تھا۔

پاکستان سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق، کرپال سنگھ کو اس وقت اسپتال میں بھرتی کیا گیا، جب اس کی حالت بگڑنے لگی، جس کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *