کوشی ایکسپریس ٹریکٹر کے ٹکر میں بال بال بچ گئ سینکڑوں کی جان

وجیہ احمد تصور ✍

سہرسہ ….. سہرسہ – مانسی ریل سیکشن کے  بدلا گھاٹ – مانسی اسٹیشن کے قریب ڑھالا پار کرنے کے دوران ٹرین اور ٹریکٹر کے درمیان ہوئی تصادم میں 18697 اپ پورنیہ-پٹنہ کوشی ایکسپریس ٹرین حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئی ورنہ ایک بڑا ایک حادثہ ہوسکتا تھا. واقعہ راجاجان گاؤں کے دہیا بهيار جانے والے ریلوے ڑالا کے پاس ہوئی ہے. عینی شاہدین نے کہا کہ تصادم بہت زوردار  تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  ٹریکٹر کے پرخچے اڑ گئے . ٹریکٹر پر دو  بچوں سمیت  پانچ افراد ٹریکٹر پر سوار تھے. اس واقعے میں کسی جانی  نقصانات  کی کوئی خبر نہیں ہے، لیکن ڈرائیور کے  زخمی ہونے کی اطلاع  ہے. ویسے واقعہ کے بعد سے وہ فرار بتایا جا رہا هے . جانكاري کے مطابق مکہ کے بھٹے کو کھیت  سے لانے کے لئے ٹریکٹر مشرق سمت واقع دہیا بهيار جا رہا تھا. سڑک کو پار کرنے کے دوران  ٹریکٹر  اچانک ریل ٹریک پر بند ہو گئی . ٹریکٹر کو ٹریک پر  دیکھ کر ریل ڈرائیور نے  ہارن بھی بجایا   لیکن ٹریکٹر اسٹارٹ نہیں ہو پائی اس وجہ سے اس کو  ریل پٹری سے  ہٹایا نہیں جاسکا اور  جب تک ٹرین ڈرائیور معاملہ کو سمجھ  ایمرجنسی بریک لگاتا   اس وقت تک ٹریکٹر سے زوردار ٹکر ہو گئی. ٹریک پر آنے والے ٹرین کو دیکھ کر  دوسرے افراد  ٹریکٹر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے. لیکن ٹریکٹر  ڈرائیور  ٹکر کے بعد دور پھینکا  گیا جس میں اس کی ایک ٹانگ  شدید زخمی ہونے کی خبر  ہے. قسمت  اچھی رہی کہ ٹر ین بے پٹری نہیں ہوئ ورنہ ایک بڑا حادثہ پیش آ سکتا تھا. ویسے زنجیروں  سے  اس ریل ڈھالا کو بند کیا جاتا ہے مگر واقعہ کے وقت ڈھالا بند کرنے والا گیٹ مین موقع سے غائب   تھا  . ایکسیڈنٹ  کے بعد ٹرین جگہ سے کچھ فاصلے پر تقریبا 15 منٹ تک رکی رہی  اس کے بعد  6:30 بجے مانسی ریلوے اسٹیشن  پہنچی. مانسی  اسٹیشن پر ٹرین کا انجن تبدیل کرنے کے بعد تقریبا پونے تین گھنٹے بعد ٹرین کو  9:05 بجے پٹنہ روانہ کیا گیا. مانسی ریلوے اسٹیشن میں ٹرین کے طویل قیام کی وجہ سے مسافر بہت پریشان تھے. ادھر حادثے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے مانسی آر پی ایف انسپکٹر ودیا ساگر پانڈے اور سہرسہ آر پی ایف کے سب انسپکٹر نے جائے حادثہ کا جائزہ لیا. مانسی جی آر پی کے تھانہ  انچارج  اروند کمار نے کہا کہ اس حادثے کی تحقیقات کر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے .

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *