خاتون ٹیچر کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لیے شکچھک سنگھ کا دھرنا

سہرسہ…(وجیہ احمد تصور )  سہرسہ ضلع کے رہوا منی  نہر پل کے قریب تیز رفتار  گیا ضلع سے سہرسہ آ رہی پولیس اہلکار بس نے  15 مارچ کو سیر کے لئے نکلے شوہر بیوی کے  جوڑے کو کچل دیا تھا جس میں شوہر ثور  تھانہ کے  کوشل  کشور (50) کی موقع واردات پر ہی موت ہوگئی تھی جبکہ شدید زخمی   بیوی ٹیچر  روبی کماری (45) کو نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں سے انہیں بہتر علاج کے لئے پٹنہ ریفر کر دیا گیا تھا جہاں  انہوں نے بھی دم توڑ دیا. ادھر ان کی موت کی خبر پھیلتے ہی نہ صرف اساتذہ میں غم کی لہر دوڑ گئی بلکہ غم اور ناراضگی  کا ماحول بن گیا اور بہار ریاست ابتدائی استاد یونین کے ضلع صدر نرنجن کمار کی قیادت میں درجنوں اساتذہ نے جمعرات کی دیر شام شنکر چوک کو جام کر جم کر  نعرے بازی اور

مظاہرہ کر رہے تھے.  سنگھ  نے میت کے  پسماندگان  کو 25 لاکھ معاوضہ دینے، دونوں بیٹوں کے بالغ  ہونے تک سارا پرورش خرچ حکومت کی سطح پر کرنے، بالگ ہونے پر انوكمپا کا فائدہ دینے، علاج میں خرچ رقم ادا کرنے، پولیس وین ڈرائیور کو گرفتار مطالبات کئے جانے تک احتجاج کے تسلسل کا اعلان کرنے کے لئے. بعد میں اے ڈی ایم کم اس ڈی او  مذاکرات کے لئے پہنچے اور 4 – 4 لاکھ کا دو چیک ان دی سپاٹ فراہم کرایا.. اس  کے علاوہ انہوں نے مذاکرات کے دوران دونوں بچوں کا ایڈمیشن  سنٹرل  اسکول میں کرانے، علاج میں ہوئے خرچ کو سرکاری سطح سے ادا کرنے، پسماندگان  کو انوكمپا تعلیمی محکمہ کے حکام کے میٹنگ میں غور و خوض کے بعد  مناسب  فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد  دھرنا ختم کر دیا گیا.

دھرنا پر بیٹھے بہار راجیہ پرا رمبھیک شکچھک سنگھ کے لیڈران
اس دھرنا  میں پروین کمار، امین اکبر، دھرنيدھر، سنجے کمار سمن، سروج کمار، ہمانشو شیکھر، گنیش رجک، بنود کمار، دیپک کمار، اروند کمار، اجے، پنٹو کمار، انوج سنگھ، امریندر نشاد، مو موبن، تنویر احمد، راجیو کمار، راجارام شرما، ارشد رحمانی، گوتم کمار، بلس پاسوان، چندن سربراہ، پنکج کمار، سنتوش کمار، راجیش کمار، دیواکر سنگھ، نریش پاسوان سمیت دیگر شامل تھے.
میاں بیوی کی فائل فوٹو
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *