لالو کا ٹوئٹر بم سے بی جے پی پر شدید حملہ

پٹنہ(نامہ نگار):
راشٹریہ جنتادل کے سپریمو لالو پرساد یادو نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں فوج کے ذریعہ کیے گئے سرجیکل اسٹرائیک کا کریڈٹ لینے کی بی جے پی کی کوششوں کی شدید تنقید کرتے ہوئے اس پر ٹوئٹر بم سے حملہ کیا ہے۔ لالو نے جمعہ کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر فوج کے جوان لڑتے ہیں ، کسی پارٹی کے کارکن نہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی فوج کے نام پر سیاست کرنے والوں کو سخت لتاڑ لگائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں عوام کو بتانے کے لیے لگائے گئے ہورڈنگس پر سیاسی لیڈر کی نہیں بلکہ شہید ہوئے جوانوں کی تصویر لگائی جانی چاہیے۔

لالو پرساد یادو
لالو پرساد یادو

لالوپرساد نے سرجیکل اسٹرائیک کے لیے فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اور بھی زیادہ سخت انجکشن لگانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے:’فوج کے جوانوں کے درد اور ان کے حوصلوں کا سمجھتا ہوں۔ فوج میں غریب مزدور اور کسانوں کے بیٹے ہیں۔ وہ کسی کو بھی دھول چٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے ’جے جوان جے کسان‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو فوج کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہیے کیونکہ سرحد پر کسی پارٹی کے کارکنان نہیں بلکہ فوج کے جوان لڑتے ہیں۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے اڑی میں واقع فوج کے کیمپ پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد فوج نے ۲۹؍ستمبر کو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کرکے دہشت گردوں کے بہت سے کیمپوں اور ان کے لانچنگ پیڈ کو تباہ کردیا تھا۔ اس کارروائی میں بہت سے دہشت گرد ہلاک بھی ہوئے تھے۔ میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق مرنے والے دہشت گردوں کی تعداد ۳۸؍ تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دوفوجی جوان بھی مارے گئے تھے۔بہت سے دہشت گردزخمی بھی ہوئے تھے۔ فوج کے ذریعہ کی گئی اس تاریخی کارروائی کے بعد ملک میں ایک ساتھ جشن اور سیاست کا دور شروع ہوگیا۔ ایک طرف جہاں مرکزمیں برسراقتدار بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں نے فوج کے سرجیکل اسٹرائیک کے لیے اپنی پیٹھ تھپتھپانا شروع کردیا وہیں اپوزیشن جماعتوں نے اس کو خالص فوجی کارنامہ قرار دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی بی جے پی سے فوج کے نام پر سیاسی روٹی سینکنے سے پرہیز کرنے کے لیے کہا۔ سرجیکل اسٹرائیک پر جاری سیاست کو بہت سے سیاسی تجزیہ کار اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *