زبان و ادب سے ہی پوری کائنات روشن ہے: مرنال مری

ساہتیہ اکادمی اتسو ۲۰۱۶ کا آغاز، نمائش کا افتتاح، آدیباسی پوئٹری فیسٹول کا بھی انعقاد

Sahitya Akademi

(تصویر: اسفر فریدی)

نئی دہلی، (پریس ریلیز): ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام رویندر بھون لان میں۱۵؍ فروری کو ’ساہتیہ اُتسو۲۰۱۶‘ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ ساہتیہ اکادمی کی ۲۰۱۵ کی ادبی سرگرمیوں پر مشتمل ’اکادمی نمائش‘ کا افتتاح اڑیہ کے ممتاز ادیب و دانشور منوج داس نے کیا۔
تقریب کے آغاز میں سکریٹری ساہتیہ اکادمی ڈاکٹر کے ایس راؤ نے اکادمی کے زیراہتمام ادبی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کتابوں کی فروخت بھی زیادہ ہوئی ہے اور ادبی پروگراموں کے انعقاد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کتابوں کی اشاعت کی تعداد میں اضافہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر بیس گھنٹے میں ایک کتاب منظرعام پر آتی ہے اور ہر اٹھارہ گھنٹہ میں اکادمی ایک پروگرام کا انعقاد کرتی ہے۔
اکادمی کے صدر وشوناتھ پرساد تیواری نے اس موقع پر اکادمی کی ادبی سرگرمیوں پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی جو کام کررہی ہے اسے دور دور تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی کے پروگراموں میں ہر زبان کے ادیبوں کی شرکت ہورہی ہے۔ انہوں نے ساہتیہ اکادمی اتسو کے انعقاد کے لیے اکادمی کے اسٹاف کو مبارکباد پیش کی۔ مہمان خصوصی منوج داس نے ساہتیہ اکادمی کی کتابوں اور پروگراموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی ہر زبان کے لیے یکساں طور پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساہتیہ اکادمی ادیبوں کا ایسا مرکز ہے جہاں سے کوئی بھی بات کہی جاسکتی ہے اور اسے مضبوطی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
افتتاحی تقریب میں ۲۴؍ ہندستانی زبانوں کے ادبا موجود تھے۔ سب نے اکادمی کی ادبی سرگرمیوں کی تصویری نمائش کو سراہا۔ بعدازیں ’ٹرائبل لنگویج پوئٹری فیسٹول‘ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت اکادمی کے صدر وشوناتھ پرساد تیواری نے کی اور سکریٹری ساہتیہ اکادمی نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے۔ اس قبائلی پوئٹری فیسٹول کا افتتاح ممتاز اسکالر اور ماہرتعلیم مرنال مری نے کیا۔ انہوں نے افتتاحی کلمات میں زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر زبان نہیں ہوتی تو پوری کائنات میں اندھیرا ہوتا۔ زبان و ادب ہی سے پوری دنیا روشن ہے۔ انہوں نے ایک زبان کے دوسری زبان میں ترجمے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوریجنل ترجمہ تو مشکل کام ہے لیکن ترجمہ ہی سے مختلف زبانوں تک ہماری رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
صدر ساہتیہ اکادمی وشوناتھ پرساد تیواری نے کہا کہ زبان کی بڑی طاقت ہوتی ہے اور زبان ہی سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر زبان نہیں ہوتی تو نہ انسان کی کوئی شناخت ہوتی اور نہ ہی کائنات کو ہم سمجھ پاتے۔ اکادمی کے نائب صدر چندرشیکھر کمباڑ نے بھی قبائلی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کی اپنی الگ تہذیب اور اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آدیباسی شاعری دل کی شاعری ہوتی ہے جو ہمیں بہت متاثر کرتی ہے۔ اس موقع پر آدیباسی زبانوں سے تعلق رکھنے والے ۱۷؍ شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ آخر میں شام چھ بجے ’کرما ڈانس‘ کا اہتمام کیا گیا جسے پدم پور سنگیت اسمرتی نے پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *