سعودی عرب میں اسلم بدر کے نام ایک شام کا انعقاد

Ijra Jubail 2
الجبیل، سعودی عرب(ڈاکٹر اقبال واجد): الجبیل کی ادبی انجمنوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ شہر میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و محقق محترم اسلم بدر صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں تو ان کے اعزاز میں شعری نشستوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ شہر کی ایک سر بر آوردہ و فعال ادبی انجمن ’گوشۂ ادب ‘ نے بھی ’ایک شام اسلم بدر کے نام‘ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا اور یہ شام نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ’اوشیان ریستوراں‘ کے کانفرنس ہال میں منائی گئی۔تقریب کے وقار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر مکرم علی خان (علیگ) صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز تھے ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ،جدہ سے تشریف لائے ہوئے شاعر و محقق محترم سید نعیم حمید الحامدشریک تھے اور مہمان اعزازی کے طور پر سعودی بحریہ کی ریسرچ لیبارٹری کے محترم ڈاکٹر وجاہت فاروقی (علیگ)۔
جلسے کے آغاز میں راقم (اقبال واجد) نے صدر و دیگر مہمانان کا اجمالی تعارف پیش کرتے ہوئے اسلم بدر کی شخصیت و شاعری پر بھر پور روشنی ڈالی۔یہ جلسہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ پہلے حصے میں اسلم بدر کی تازہ ترین شعری تخلیق ’بوند سمندر‘ کا اجراء ڈاکٹر مکرم علی خان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ محترم سید نعیم الحامد نے اسلم بدر کی خدمت میں اعزازیہ کے طور پر گوشۂ ادب کی جانب سے ایک میمنٹو پیش کیا۔بعد ازاں جناب فیاض احمد صاحب نے ’اسلم بدر میری نظر میں‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ خاکہ پڑھا ، جسے خاصا پسند کیا گیا۔ راقم نے بھی اسلم بدر کی شعری جہات پر روشنی ڈالی اور ’بوند سمندر‘ پر اپنی رائے پیش کی۔جلسے کے دوسرے دور میں مندرجہ ذیل مہمان شعرائے کرام نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ منتخب اشعاریوں ہیں :

چراغ لے کے مرے ساتھ ساتھ آؤ تم
مرا ارادہ ہے پاتال میں اترنے کا
سفر طویل ہے صحرا کے پار جانا ہے
کوئی نظام نہیں چھاگلوں کو بھرنے کا
(سعید اشعر)

سینے پہ لگا تمغہ کہیں بیچ نہ دینا
بازار میں ملتی نہیں اعزاز کی قیمت
(ایوب صابرؔ )

چراغ علم جلا کر کے کو بہ کو رکھنا
کہ تم پہ فرض ہے اس ضو کو چار سو رکھنا
(ثاقبؔ جونپوری)

وہ جس نے ذہن کو افکار کی تجلی دی
اُسے تلاش کرو بس وہی خدا ہو گا
دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں اس قدر ہم لوگ
کوئی عذاب نہ آیا تو معجزہ ہو گا
(سید باقر نقوی علیگ)

نہ انتظار کرایا نہ اُس نے وعدہ کیا
نہ اس نے ترک ملاقات کا ارادہ کیا
(ڈاکٹر اقبال واجد)

زاویے حسن کی نظروں میں نکھرتے ہی رہے
جستجو نے تری ہر آن سفر میں رکھا
(ابو شارق)

جب نظر اپنے ارادوں پہ جما لی جائے
غیر ممکن ہے نشانہ ترا خالی جائے
(ضیاء الرحمٰن صدیقی)

اندھیری رات میں جب جب وہ بے نقاب آئے
مقابلہ سا رہا ان کا ماہتاب کے ساتھ
محمد عبد السلیم)

میں اس سے جنگ آخر کروں تو کیسے کروں
کہ میرا تیر بھی اُس کی کماں میں رہتا ہے
ڈاکٹر سجاد سید)

تھا سبب کوئی کہ اظہار محبت نہ کیا
ورنہ کہنا بہت آسان تھا تُم جانتے تھے
کس طرح تم نے کسی اور سے منسوب کیا
وہ جو نغمہ مری پہچان تھا تم جانتے تھے
(اقبال طالبؔ )

حرف تازہ جو نہ ارباب قلم نے لکھا
ریگ صحرا پہ مرے نقش قدم نے لکھا
روشنائی متحمل نہ ہوئی غم کی مرے
خونِ دل میں جو ڈبویا تو قلم نے لکھا
(نعیم حمید الحامد)

چونکہ آج کی شام اسلم بدر کے نام تھی ، اس لئے اسلم بدر کو لوگوں نے جی بھر کے سنا ۔موصوف نے اپنی تعتیہ نظم ’الکوثر‘ سے آغاز کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی غزلیں سنائیں۔۔ کچھ اشعار یوں تھے:

وقت تو اپنی ہی رفتار کا مارا نکلا
وہ محبت تھی کہ سورج بھی دوبارہ نکلا

ابھی نہ مال غنیمت سمیٹئے اسلمؔ
سوار پُشت کے ٹیلوں میں چھُپ کے بیٹھے ہیں

سر سے کفن لپیٹنے والوں کے پاس اب
چادر ہی صرف رہ گئی ، سر اب نہیں رہے
(اسلم بدر)

’علم‘ کے عنوان سے اسلم بدر نے ایک پُر مغز نظم بھی سنائی ، جس کے کئی کئی شعر بار بار سنے گئے۔ جلسے کا اختتام صدر جلسہ ڈاکٹر مکرم علی خان(علیگ) کے خطبۂ صدارت پر ہوا۔خطبہ کے دوران ڈاکٹر صاحب نے علی گڑھ کی قدیم روایت کے تحت اپنے مخصوص انداز میں مشاہیر کے اشعار پر پیروڈیاں سنائیں۔
ڈاکٹر وجاہت فاروقی علیگ نے اظہار تشکرکا فریضہ ادا کیا ۔
(ڈاکٹر اقبال واجد گوشۂ ادب، الجبیل، سعودی عرب کے صدر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *