المعہد العالی الاسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی سیرت نبویؐ سیمینار

مذہبی شخصیتوں کے احترام کو یقینی بنانے کیلئے موثر قانون بنانے کی ضرورت: مولانا خالدسیف اللہ رحمانی

وید پیغمبراسلام کے تذکرہ سے پُر، گیتا اور قرآن کی تعلیمات میں غیر معمولی ہم آہنگی: مقررین

 

Seminar-22-3

حیدرآباد،۲۲ فروری: اپنے نبی سے محبت اس امت کو صحابہ سے ورثامیں ملی ہے، یہی وجہ ہے کہ معمولی درجے کامسلمان بھی آپ نبی سے اس قدر والہانہ محبت کرتاہے کہ اس شان میں کسی بھی طرح کی گستاخی سے ان کی قلب وجگر کی بے چینی بڑھ جاتی ہے، ہمارایہ فرض ہے کہ موجودہ ملکی ماحول میں ہم اپنے نبی کے اخلاق وکردار اور ان کی تعلیمات کو برادران وطن کے سامنے پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں تب ہی انسانی زندگی میں کسی صالح انقلاب کی امیدکرسکتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار کل المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی سیرت نبوی سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے روح رواں مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔

مولانا رحمانی نے شہر حیدرآباد کی تاریخی پس منظر اور اس سرزمین سے جڑی اہم خدمات پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایاکہ حیدرآباد کو سیرت نبوی کی خدمت میں ایک نمایاں مقام حاصل رہاہے ۔آخر میں انہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی سیرت نبوی کے عنوان سے سیمینار کی تحریک دراصل ملکی ماحول میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے بعد شروع کی گئی۔ امیرشریعت بہار مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہاکہ اس وقت ہم جن ملکی حالات سے گزر رہے ہیں اس میں ہمار ے لئے ضروری ہے کہ ہم نبی کریم ﷺکی زندگی کے تمام نمونوں کو سامنے رکھ کر اپنے اندر اصلاحی فکر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ مہمان خصوصی ریاست تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹرمحمد محمود علی نے اپنے خطاب میں جہاں سیرت کے پہلو پراجمالی روشنی ڈالی، وہیں انہوں نے کہا کہ آج کے دورمیں اگرمسلمان قوم ترقی کے میدان میں آگے بڑھناچاہتی ہے تواسے دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم میں بھی قا بل رشک پیش رفت کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ نئی نسل کو عصری تعلیم سے دور رکھ کران کے مستقبل کو کامیاب بنانے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا،انہوں نے کہاکہ اگرہم نسل کو کامیابی کے میدان میں آگے دیکھناچاہتے ہیں تو ہمیں انہیں حالات کے تقاضوں کی روشنی میں سینچنے اورسنوارنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ جمعیة علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولاناسید محمود اسعد مدنی نے موجودہ ملکی حالات پرکھل کر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ پور ے برصغیر میں جتنے مسلمان بستے ہیں،ان میں کاآدھاحصہ صرف ہمارے ملک میں آباد ہیں اور میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ عرض کرناچاہتاہوں کہ اس وقت ہندوستان کامسلمان دوسرے مقامات کے مقابل کہیں زیادہ پرامن ماحول میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ ماحول میں ہمیں اپنے ملک میں کئی حالات کاسامنا ہے مگر میں کہوں گا کہ اس صورت حال کابڑی دانشمندی سے جائزہ لیکر اپنے لئے مناسب سمت طے کرنی ہوگی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ حکومت کے بدلنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ اس کیلے ہمیں خود اپنے حالات کو بدلنے کیلئے اپنے اخلاق وکردار کو سیرت وسنت کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر کرنی ہوگی۔

Seminar-22-2

آج سیمینار کا دوسرا دن تھا، جس کی پہلی نشست کا آغاز معہد کے شعبہ انگریزی کے متعلم ثناء اللہ کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ شعبہ فقہ کے متعلم تاثیر نبی نے اپنی پر سوز آواز میں نعت نبی سے سامعین کے دلوں کو معطر کیا۔ اس نشست کا مرکزی عنوان پیغمبراسلام ﷺ اور دیگر مذہبی کتابیں تھا۔ دارالعلوم سبیل السلام کے استاذ حدیث اورمعروف اسلامی اسکالر مولانا نثار الحصیری القاسمی نے عنوان کا تعارف کراتے ہوئے اپنے تمہیدی کلمات میں فرمایا کہ زندگی کی ناہمواریوں، دنیا کی انارکی اور بے راہ روی کا واحد حل سیرت محمدیﷺ سے وابستگی ہے، ہمیں فکر ونظر کا چراغ نبی اکرم ﷺ کے چراغ سے جلانا چاہئے۔ اس کے بعد پےغمبراسلام اور ویدیں کے عنوان پر مشہور داعی جناب عبداللہ طارق (رامپور) نے اپنامقالہ پیش کیا۔ انہوں نے چاروں ویدوں کی عبارتیں اور اشلوک پڑھ کر ثابت کیا کہ ہندو سناتن دھرم نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اور آپ کی شخصیت سے ناآشنا نہیں ہے۔ ویدیں نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ہم آہنگی رکھتی ہیں، ویدوں نے نبی ﷺ کا متعدد مقام پر بحیثیت رسول اور نبی ذکر کیا ہے۔ ابھی سیمینار کی متعدد نشستیں باقی ہیں، جن میں مختلف علمی، تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے۔ آخری نشست کے بعد تجویز کمیٹی تجاویز پیش کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *