مدھوبنی کے مدرسہ رحمانیہ میں کچھ اس طرح منایا گیا جشن آزادی

مدهوبنی (شرف الدین عبدالرحمن تیمی): پندره اگست    کے دن ہمارا دیش ہندوستان انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوا تها. یہ کا دن ملک ہندوستان کے لئے بڑے ہی خوشی اور جشن کا دن ہوتا ہے۔ ملک بھر میں اس مناسبت سے یوم آزادی کی تقریب بڑی دهوم دهام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ اسی کی ایک کڑی مدهوبنی ضلع کی مشہور و معروف بستی تیلیا پوکهر کی قدیم درسگاه مدرسہ رحمانیہ کے احاطہ میں 15 اگست کو صبح  ساڑهے نو بجے پرچم کشائی کی گئی۔ ملک کا قومی ترنگا جھنڈا پھہرایا گیا. پهر علامہ اقبال کی معروف  نظم “سارے جہاں سے اچها ہندوستاں ہمارا” طلبہ نے بہت ہی اچھوتے انداز میں پیش کیا۔

تقریب کے دوران ککرول دچهنی کے مکهیا ثناءاللہ نے یوم آزادی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو آزاد ہوئے ایکہتر سال ہوگئے اس بیچ اس نے بہت ساری ترقیاں بهی کی ہیں.لیکن جب بهی اس دیش کی آزادی کے تعلق سے باتیں کی جاتی ہیں تو غیر مسلم دانشوران  اس دیش کی آزادی میں صرف دو چار مسلم لیڈران کے ناموں کی ہی قربانی کو یاد کرتے ہیں اور بقیہ مسلم لیڈران کی قربانیوں کو بهلا بیٹهتے ہیں ان تمام بڑے ناموں کو چهوڑ دیتے ہیں جیسے مولانا ولایت علی، مولانا عنایت علی، شاه ولی اللہ محدث دہلوی کے اہل خانہ وغیره. اس کے برعکس وه لوگ جن اشخاص کے ناموں کا تذکره بڑے زور اور شور کے ساتھ کیا جاتا ہے اور برملا یہ کہا جاتا ہے کہ اس دیش کی آزادی کے اصل روح رواں پنڈت جواهر لال نہرو، گاندهی جی، سردار ولبھ بھائی پٹیل ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جب اس کی آزادی کو لیکر تحریک چهیڑی گئ اس وقت ان لوگوں کا وجود بھی نہیں تھا ۔
مسلمانو! ہندوستان کی حالت بہت ہی نازک ہے، مسلمانوں کے تئیں موجوده حکومت اور ان کے ہمنوا پوری تیاری اور پلاننگ کے ساتھ اس ملک سے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں. اس کی واضح مثال آئے دن ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات ہیں. کشمیر میں تقریبا سالوں سے چل رہی گہما گہمی کے دوران مسلمانوں کا خون منرل واٹر کی شکل میں بہایا جا رہا ہے۔ گائے کی رکچها اور سورکچها کے نام پر  آئے دن بلا ناغہ سیکڑوں مسلمان ہر جگہ، ہر گلی اور ہر موڑ پر تراشے اور خراشے جا رہے ہیں۔ حیوان کی حیوانیت پر لگام کسنے کے بجائے اسے پوری آزادی اور کهلی چهوٹ فراہم کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو چاہتا ہے، جب چاہتا ہے مسلمانوں کو اپنی دشمنی کا شکار بنا لیتا ہے، ان کی عزتوں کو سرے عام نیلام اور بدنام کرتا ہے کوئی بھی عزت دار شہری اپنے ہی آزاد دیش میں محفوظ و مامون نہیں ہے.

آج ضروت اس بات کی ہے کہ سارے مسلمان بلا تفریق  مسلک و ملت ایک ہو جائیں اور اپنے اندر اتحادی قوت پیدا کریں۔ تعلیم میں آگے آئیں، پڑھائی میں محنت کریں ملک کی طاقت میں اپنا حصہ بنائیں اچھا پوسٹ اور اچھا مقام و رتبہ حاصل کریں تبھی جاکر ہم لوگ باطل پرستوں کا مقابلہ کر پائیں گے.
اللہ تعالی اس دیش کو امن و امان والی جگہ بنا دے آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *