24نومبر پٹنہ کے مظاہرہ سے پہلے ریاستی حکومت اعلان کے مطابق مدارس اساتذہ کے ویتن مان کا اعلان کرے: نظرعالم

دربھنگہ:( پریس ریلیز) ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن، دربھنگہ کے بینرتلے آج دربھنگہ کلکٹریٹ پر یک روزہ دھرنا اور احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ دھرنا کی صدارت آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے کی۔ یہ دھرنا اسکول کے طرز پر مدارس کے اساتذہ کو بھی تنخواہ (ویتن مان) لاگو کرنے کو لیکر کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے خود اعلان کیا تھا کہ اسکول کے طرز پر ہی مدارس کے اساتذہ کو بھی تنخواہ (ویتن مان)دی جائے گی۔لیکن حکومت کے اعلان کے بعد اسکول اساتذہ کو اس کا فائدہ تو ملا لیکن مدارس کے اساتذہ ویتن مان سے محروم رہ گئے۔ لگاتار مدارس اساتذہ حکومت کے اعلان کے مطابق مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہا ہے۔ دھرنا کو مولانا اسلام الدین، انصاف منچ کے نائب صدرنیازاحمد، اکرم صدیقی، فرید احمدصدیقی،پروفیسرخادم حسین، اسدرشیدندوی،قاری عمران قاسمی، ڈاکٹر راحت علی، محمدمصطفی، کامران خان، محمدسلیمان ، رفیع الدین (نائب صدر)، شوربھ کمار سنگھ، اجے کمار منڈل، دیویندر کمارشاہ وغیرہ نے خطاب کیا۔ دھرنام کی نظامت ایم اے صارم نے کی۔ دھرنا کے بعددھرنا گاہ سے پیدل مارچ لہریا سرائے ٹاور تک نکالا گیا اور جم کر نعرے بازی کی گئی اور مطالبہ کیا گیا ہے جتنی جلد ہو حکومت ویتن مان لاگو کرے۔دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ ریاستی حکومت مدارس کے اساتذہ کو بندھوا مزدور سمجھ کر کام لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ اپنے اعلان پرعمل کرے اور جتنی جلد ہو مدارس اساتذہ کو اسکول اساتذہ کے طرز پر تنخواہ (ویتن مان) لاگو کرے اور جو بھی سہولیات اسکول اساتذہ کو دی جاتی ہے وہ ساری سہولیات مدارس کے اساتذہ کو بھی دے۔ حکومت لگاتار مدارس اساتذہ کا استحصال کررہی ہے جسے اب اور برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ وہیں انصاف منچ کے نائب صدرنیازاحمد نے بھی مدارس اساتذہ کے ویتن مان کو لیکر جم کر بھراس نکالتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت بھی مرکز کی حکومت کی طرح صرف لمبی لمبی پھینکتی ہے۔جب اعلان کیا کہ مدارس کے اساتذہ کو ویتن مان دیا جائے گا تو صرف اسکول اساتذہ کو دے کر خاموشی کیسے اختیارکرلی۔ کیا تعلیم کے شعبۂ میں بھی دو طرح کا قانون چلتا ہے جو اسکول اساتذہ کو فائدہ دے دیا گیا اور مدارس اساتذہ کو محروم کردیا گیا۔ اس طرح کی دوہری پالیسی قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اپنے وعدے کو پورا کرے اور مدارس کے اساتذہ کو جتنی جلد ہو ویتن مان دے نہیں تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔وہیں دلت مسلم تنظیم کے کنوینراکرم صدیقی نے بھی خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار تو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری حکومت اقلیتوں کے لئے بہت کام کرتی ہے تو پھر مدارس کے اساتذہ کو بندھوا مزور بناکر کیسے کام لے رہی ہے۔ حکومت جب اسکول اساتذہ کو ویتن مان دے رہی ہے اور مدارس اساتذہ کو بھی دینے کا خود اعلان کئے ہوئی ہے تو مدارس اساتذہ کے ساتھ بھیدبھاؤ کیوں؟ حکومت کے اس طرح کے رویے سے اقلیتوں میں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد مدارس اساتذہ کے ویتن مان کو لاگو کرے تاکہ اقلیتوں پر حکومت کا بھروسہ قائم رہ سکے نہیں تو آنے والے انتخاب میں حکومت کو یہی اقلیتی طبقہ مزہ بھی چکھائے گی۔

آرگنائزیشن کے ریاستی کنوینر فرید صدیقی نے بھی اپنے مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہم لوگوں کو حکومت نے جو وعدہ کیا کہ ویتن مان دیں گے اس میں دیری کیوں ہورہی ہے۔ حکومت اپنے وعدے سے بھاگتی نظرآرہی ہے۔ انہوں آگے بتایا کہ مدارس اساتذہ کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ پریوار چلانا کافی دشوار ہے اوریہ بات حکومت اچھی طرح سمجھتی ہے۔ لیکن حکومت اقلیتوں کے ساتھ نہ جانے کیسا مذاق کررہی ہے۔ خود کے اعلان کے بعد اسے عملی جامہ پہنانے سے حکومت بھاگتی نظرآرہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج 15 نومبر کا یہ مظاہرہ ریاست کے ہرضلع میں آرگنائزیشن کے بینرتلے کیا گیا ہے اور 24 نومبر کو اسی مطالبے کے تحت پٹنہ میں ریاستی سطح کا آندولن ہونے جارہا ہے۔ اس لئے حکومت جتنی جلد ہو مدارس کے اساتذہ کے جائز مطالبے کو پورا کرے اوراسکول کے طرز پر وہ ساری سہولیات مدارس اساتذہ کو دے تاکہ مدارس اساتذہ بھی اپنے پریوارکے ساتھ چین و سکون کی زندگی گزار سکے۔اس موقع پر مقصودعالم پپو خان، شاداب انجم، محمدشاداب عالم، محمدجیلانی انصاری، قاری محمدسعید ظفر،ذوالفقار، مولانا ممتاز وغیرہ کثیرتعداد میں مدارس کے اساتذہ موجود تھے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *