علاج کے دوران ایک قیدی کی موت

مدھے پورہ، ۱۸؍نومبر(نامہ نگار)آج دوپہر کو یہاں کے صدر اسپتال میں اس وقت ایک ہنگامہ سا ہوگیا جب مقامی جیل میں قید اوکائے یادو نامی ایک ملزم کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔

Okai-yadav(qaidi)اطلاع کے مطابق۵۵؍سالہ اوکائے یادو مدھے پورہ تھانہ حلقہ کے مانک پور چوک، مرواہا گاؤں ،وارڈ نمبر ۳؍ کا رہنے والا تھااور قتل کے ایک معاملے میں گذشتہ دوسال سے پورنیہ ضلع جیل میں قید تھا۔قتل کے معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد اوکائے یادو کو ۱۰؍نومبر کو مدھے پورہ جیل میں منتقل کردیا گیا کیونکہ یہاں بھی اس کے خلاف معاملہ درج تھا۔یہاں آنے کے بعد ۱۲؍نومبر کو جب اس کی حالت مزید بگڑی تو علاج کے لیے اسے صدر اسپتال لایا گیا۔اس کی نازک حالت کودیکھتے ہوئے اسے بہتر علاج کے لیے پٹنہ ریفر کیا گیا ، لیکن کاغذی کارروائی کرنے میں دیری ہوئی اور دو پہر کو اوکائے یادو نے دم توڑ دیا۔

اوکائے یادو کے بیٹے بیچن کمار نے اپنے والد کی موت کے لیے اسپتال انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاج میں مجرمانہ لاپرواہی برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے ذریعہ تجویزکردہ ایک دوا بھی اسپتال کی طرف سے نہیں دی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجے کا کتنا اور کیسا انتظام ہے۔

ادھر صدر اسپتال کے ڈی ایس ڈاکٹر اکھلیش کمار نے علاج میں لاپرواہی برتنے کے الزام کو بے بنیاد بتا تے کہاکہ پچھلے ۶؍ ماہ سے اوکائے یادو بیمار تھا۔اس کو دل کی بیماری کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی دوسری بیماریاں تھیں جن کا علاج یہاں ممکن نہیں تھا۔ اس کی اطلاع فوری طور پر ضلع مجسٹریٹ کو دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے فوراً ہی ڈاکٹروں کا ایک بورڈتشکیل کرکے اسے علاج کے لیے باہر بھیجنے کا حکم دیا۔ بورڈ میں شامل ڈاکٹروں نے آج اوکائے یادو کا معائنہ کیا اور بہتر علاج کے لیے اسے پٹنہ ریفرکردیا۔ ابھی اوکا ئے یادو کو پٹنہ لے جانے کی تیاری ہوہی رہی تھی کہ اس کی موت ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *