مہاراشٹر میں بڑھتے عدم تحمل کی گورنر سے شکایت

ممبئی، ۲؍نومبر: دنیا کی کوئی بھی جمہوری حکومت سماج و معاشرہ کی فلاح و بہبود اور آپسی یگانگت کو بہتربنانے ‘ بھائی چارہ اور اتحاد قائم رکھنے کا کام کرتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ مہاراشٹر کی دیوندر فڑنویس سرکار اس کے برخلاف سماج میں انتشار اوربدامنی پھیلانے کا کام کررہی ہے ۔
یہ باتیں آج مہاراشٹر کے گورنر چنامنی ودیاساگر راؤ کو دی گئی ایک عرضداشت میں فورم فارآرٹی آئی ایکٹ اینڈ کرپشن کی سربراہ اور معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ نازیہ الٰہی خان نے کہیں ۔

Advocate-Nazia-Elahi-Khan

اپنے ممبئی دورہ پر پہنچی ایڈوکیٹ نازیہ الٰہی خان نے مہاراشٹر کے حالات کے پیش نظر گورنر کو عرضداشت دینے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے اپنی عرضی میں گورنر سے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں ایک طرف کسان خودکشی کررہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں اور اقلیتوں کو روزگار سے صرف مذہب اور نسل کی بنیاد پر نکالاجارہاہے ،کسی جمہوری حکومت میں یہ صورتحال پورے معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس پراگر جلدہی قابونہیں پایاگیا تو حالات اور بھی بدترشکل اختیار کرسکتے ہیں ۔

ایڈوکیٹ نازیہ کی عرضی راج بھون ممبئی میں گورنرچنامنی ودیاساگر راؤ کے سکریٹری سچن شنگے نے وصول کیا۔ شنگے نے ایڈوکیٹ نازیہ کو کہا کہ ان کی عرضی پر ہونے والی کارروائیوں سے انہیں وقتاً فوقتاً آگاہ کیاجاتا رہے گا ۔

اپنی عرضی میں ایڈوکیٹ نازیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ مٹھی بھر شرپسندا ور فرقہ پرست عناصراور ایک خا ص نقطہ نظر کے لوگوں کی وجہ سے فڑنویس سرکار جمہوری اور آئینی قدروں کو پامال کررہی ہے ۔ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سوسائٹی میں بڑھتے عدم اعتماد، عدم برداشت اور غیراعلانیہ بائیکاٹ جیسے خطرناک رجحان کے خلاف کام کرتی، کسانوں کے آنسوپونچھتی، سوکھا اور پانی کے لیے ترسنے والوں کے کھیتوں تک سینچائی کا سامان پہنچاتی، مگر مہاراشٹر کی حکومت یہ سب کرنے کی بجائے اپنے اول جلو ل اعلانات اور سرکلر کے ذریعہ آپسی خلیج بڑھارہی ہے، لوگوں کے باورچی خانہ اور دسترخوان پر جھانک رہی ہے اوران کے کھانے کی عادت پر نکیل کسنا چاہتی ہے جوآئین میں دی گئی شخصی آزادی کے حق کے سراسرمنافی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *