اردو عربی پر پابندی کا شیوسینا کا مطالبہ مسلم مخالف منصوبوں کاحصہ:عبدالرحمن شاکر پٹنی

abdul-rehman-patni-shakir-

ممبئی،(پریس ریلیز):ملک معاشی سست روی سے گذر رہا ہے ۔ایک کروڑ نئے روزگار پیدا کرنے کے وعدے ہوا ہو گئے، بے روز گاری بڑھ رہی ہے،مہنگائی عروج پر ہے ،اچھے دن کا وعدہ بھی چناوی جملہ ثابت ہو رہا ہے ۔ہمارے وزیر اعظم ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کے نعرہ کے ساتھ حکومت میں آئے تھے لیکن اب نہ تو وکاس ہے اور نہ ہی ایک گروہ کے علاوہ کسی کے ساتھ کا دور دور تک پتہ ہے ۔ ان حالات میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیو سینا کا مطالبہ کہ مدارس میں اردو اور عربی ذریعہ تعلیم پر پابندی عائد کی جائے ،خلاف آئین ،شر انگیز اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے والا تو ہے ہی ساتھ ہی یہ عوام کا ذہن حکومت کی ناکامیوں سے بھٹکانے کی ایک ناپاک کوشش بھی ہے ۔یہ باتیں ایک پریس اعلامیہ میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین ممبئی کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی نے کہی ۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور شیو سینا کے وہ مسلم چہرے کہاں ہیں جو مسلمانوں کی ترقی کا راگ الاپتے ہیں اور ساتھ ہی جن کا دعویٰ ہے کہ مسلمان صرف بی جے پی کی حکومت ہی میں ترقی کرسکتے ہیں۔ اسی کے دور حکومت میں انہیں مکمل تحفظ کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
شاکر پٹنی نے زمینی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میں بھی کانگریس کی طرح مسلمانوں کوخوفزدہ کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے شیو سینا کے مسلم چہرہ کو اپنی تنقید کا خاص طور سے نشانہ بنایا اور کہا کہ اب ان کی زبان کیوں گنگ ہے ؟پچھلے سال ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہی شیو سینا سے جڑے ہیں اور جس دن شیو سینا سے مسلمانوں کا مفاد متاثر ہو گا وہ اس سے استعفیٰ دے کر علیحدہ ہو جائیں گے ۔ مجلس کی ممبئی شاخ کے صدر نے بی جے پی کے دو مسلم کارکنوں پر بھی سوال کھڑے کیے اور کہا کہ وہ شیو سینا کے مذکورہ شر انگیز بیان پر اپنی پوزیشن اور پارٹی کا مؤقف واضح کریں کہ ان کی پارٹی شیو سینا کے بیان سے متفق ہے یا اگر نہیں ہے تو کیا وہ ان کے اس مطالبہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے محاذ سے باہر کا راستہ دکھانے کی جرأت کریں گے ۔انہوں نے خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ مہاراشٹر اور بی جے پی کے ریاستی ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ شیو سینا کے مدارس کے ذریعۂ تعلیم کو عربی اردو سے بدل کر ہندی انگریزی کرنے کے غیر دستوری مطالبہ پر اپنی پوزیشن واضح کریں ۔اگر وہ شیو سینا سے علیحدہ ہونے کا اعلان نہیں کرتے تو یہ سمجھا جائے گا کہ بی جے پی بھی شیو سینا کے مذکورہ غیر دستوری اور شر انگیز بیان سے متفق ہے اور یہ صرف شیو سینا کا ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے بھی عین منشا کے مطابق سمجھا جائے گا، جس کی ہم پرزور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *