چورکا پیچھا کرتے شخص کو موت نے گھیرا

چھپرہ میں پیش آیا دلدوز واقعہ

چھپرہ(نامہ نگار):موت کب ، کہاں اور کس روپ میں آجائے اس کا پتہ موت کو بھی نہیں ہوتا۔ چراند لودی پور کے رہنے والے رام جے پال رائے کا ۲۰؍سالہ بیٹا مکیش کمار بھی ۲۲؍اکتوبر کی رات کو جب بستر سے اٹھ کر چوروں کے پیچھے بھاگ رہا تھاتو اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ موت کے منھ میں جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی شب یعنی ۲۲؍اکتوبر کو جب مکیش پٹرول پمپ کے پاس ہی ٹائر کی ایک دکان پر سورہا تھا، تبھی اسے احساس ہوا کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہورہی ہے۔ وہ نیند سے جاگا تو نزدیک ہی کھڑے ٹرک کے پاس کچھ مشکوک حرکت دکھائی دی۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ تین چار افراد ٹرک کے ڈرائیور کیبن کا شیشہ کاٹ کر اس کے اندر گھسنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اپنی آنکھوں پر یقین ہوجانے کے بعد مکیش نے شورمچایا اور پاس ہی سوئے ہوئے ذاکر کو بھی جلدی جلدی جگایا۔ ان دونوں کے شور مچانے پر چور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ آس پاس کے لوگ بھی جاگ گئے۔ این ایچ ۱۹؍پر چاروں چور آگے آگے بھاگ رہے تھے اور ان کے پیچھے آس پاس کے لوگ دوڑ لگارہے تھے۔ مکیش اور ذاکر سب سے آگے تھے۔ اپنے پیچھے لوگوں کو آتے دیکھ کر پریشان چاروں چور پاس ہی میں تیواری گھاٹ موڑ سے دھرم پورہ جانے والی سڑک پر بھاگنے لگے۔ ادھر بہت اندھیرا ہونے کی وجہ سے چوروں کا پیچھا کرنے والے افراد واپس چلے لیکن مکیش اور ذاکر دونوں اب بھی سماج دشمن عناصر کو پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ اس دوران چور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جھاڑیوں کے پیچھے چھپ گئے۔ مکیش اور ذاکر نے ان میں سے ایک چور کو پکڑلیا اور ان سے پوچھ گچھ کرنے لگے۔ پکڑے گئے ملزم نے خود کو بے قصور بتاتے ہوئے کہا کہ وہ تو رفع حاجت کے لیے آیا ہوا تھا۔اسی دوران پکڑے گئے ملزم کے ساتھی جو نزدیک ہی چھپے ہوئے تھے، باہر آئے اور چاقو سے مکیش کی گردن اور ذاکر کی پیٹھ پر گہرا وار کردیا۔ ان دونوں نوجوانوں کو زخمی کرکے سبھی چور دھرم پورہ گاؤں کی طرف فرار ہوگئے۔ ادھر زخمیوں کی چیخ سن کر مقامی باشندے جائے وقوع کی طرف دوڑے۔ انہوں نے شدید طور پر زخمی مکیش اور ذاکر کو اٹھایا اور جلدی جلدی صدر اسپتال چھپرہ لے کر پہنچے۔ وہاں ڈاکٹروں نے مکیش کو مردہ قرار دے دیا۔ادھر ذاکر کی نازک ہوتی حالت کو دیکھ کر اسے علاج کے لیے پٹنہ ریفر کردیا گیا۔ اس سانحہ سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ غم میں ڈوبے مقامی باشندوں نے شدید غم وغصے کے اظہار کے لیے مکیش کی لاش کو لے کر این ایچ ۱۹؍پر مظاہرہ کرنا شروع کردیا۔ ان کے غصے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ ایک مہینہ میں ٹرک کے ڈرائیور کیبن کا شیشہ کاٹ کر چوری کی کئی واردات انجام دی جاچکی ہے۔ تازہ واقعہ تھانہ سے قریب دوکلومیٹر کی دوری پر رونما ہوا ،اس کے باوجود پولیس دیر سے پہنچی۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ پولیس رات کے وقت گشت لگانے کی بجائے سڑک کنارے بنے ہوٹلوں میں چائے پینے میں وقت کاٹ دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *