منٹو رنگ: منٹو کےتین مزاحیہ ڈراموں کی نمائش

فیصل فاروق
ممبئی: ممبئی کے آوڈیم آڈیٹوریم میں کردار آرٹ اکیڈمی کے زیراہتمام ’منٹو رنگ‘ کے عنوان سے سعادت حسن منٹو کے تین نایاب مزاحیہ ڈرامے پیش کیے گئے۔ ’آفت میں ہے جان‘، ’آؤ کھوج لگائیں‘ اور ’تین خاموش عورتیں‘۔ ان ڈراموں نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ کردار اکیڈمی نے جدید اردو افسانے کے موجد سعادت حسن منٹو کے ان مزاحیہ ڈراموں کو اسٹیج پر لایا ہے جو انہوں نے ریڈیو پر پڑھےہیں۔ نوجوان فنکاروں کی پرفارمنس پر شائقین نے انہیں بھرپور داد دی۔ منٹو کو اس دنیا سے گئے ۶۴؍برس بیت گئےلیکن ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ آج بھی ان کے ڈرامے اسٹیج ہو رہے ہیں اور پسند کیے جا رہے ہیں۔

منٹو کو ماضی کی روایات سے بغاوت، معاشرے کی تلخ تصویر کشی، انسانی فطرت کے متنازع پہلوئوں پر جرأت مندانہ اظہار، ہر لفظ ہر جملے میں نشتر سی کاٹ لیے افسانوں کے لیے جانا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ منٹو کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ منٹو نے ریڈیو پر ڈرامے پڑھے ہیں، آل انڈیا ریڈیو کے لیے تقریباً ۱۰۰؍ڈرامے لکھے ہیں۔ اگرچہ منٹو نے ڈراموں کو بہت کم وقت کے لیے اپنے قلم کازیور بنایا پھر بھی جتنا لکھا وہ اپنی تکنیک اور موضوعات کے حوالے سے اہم ہے۔ منٹو نے طنزیہ لہجہ میں مزاحیہ ڈرامے بھی لکھے ہیں۔

ڈرامے کی ایگزیکٹو پروڈیوسر ڈاکٹر ناز خان اور ڈائریکٹر ’کردار آرٹ اکیڈمی‘ کے روح رواں، معروف ڈرامہ نگار اقبال نیازی کا کہنا تھا کہ تھیٹر کی بحالی کے لیے ایسے ڈرامے ضروری ہیں جن میں مزاح کے ساتھ اصلاح کا پہلو بھی ہو۔ گیتا اور نکہت خان کے تیار کردہ ڈرامے کا سیٹ ،کاسٹیوم اور فنکاروں کی پرفارمنس بلاشبہ کمال کی تھی۔ بیک اسٹیج پر اتل کمار، ستیش تنوانی اور سشیل نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ڈرامے میں مزاحیہ منظرنامہ کے ساتھ ساتھ اسی انداز میں ڈانس بھی شامل تھا جنہیں شائقین نے خوب پسندکیا۔

ڈرامہ آفت میں ہے جان کا ایک منظر

واضح رہے کہ کردار آرٹ اکیڈمی ممبئی کا ایک فعال ڈرامہ گروپ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو اسٹیج کی بقاء اور احیاء کے لیے سرگرم ہے۔ نئے اور شوقیہ ڈرامہ گروپ خواہ وہ کسی زبان کے ہوں اگر وہ اردو ڈرامے کرتے ہیں تو انہیں مناسب پلیٹ فارم مہیا کرانا، ان کے شوز کروانا ’’کرداراکیڈمی‘‘ کے ترجیحی کاموں میں شامل ہے۔ بغیر کسی اسپانسر شپ اور مالی امداد کے ’’کرداراکیڈمی‘‘ نئے فنکاروں کے شوز کرا کے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اپنے خرچ پر سارے انتظامات کرتی ہے۔

اس اکیڈمی کی کوششوں سے نوجوان نسل معیاری کام پر یقین رکھ کر تھیٹر کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہاں گذشتہ روز پیش کیے گئے ڈرامے کی کاسٹ میں رتوراج، روہت، وکی، گیتا، ارپتا، کیان، ستیش، پردیپ، شری وست، اتل، کنال اور دیوروپ شرما سمیت دیگر فنکار وں نے حصہ لیا۔ ایک ڈرامہ میں اہم رول ادا کرتے ہوئے یتیندر سولنکی نے ایک درجن سے زائد اداکاروں سے سجی اس پیشکش کو موسیقی سے سنوارا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے ان اردو کلاسک مزاحیہ ڈراموں کو اقبال نیازی نے ڈیزائن اور ڈائریکٹ کیا ہے۔

مقولہ مشہور ہے کہ جہاں عورتیں ہوتی ہیں وہاں خاموشی بھی اونچی آواز میں بولتی ہے۔ ڈرامہ ’تین خاموش عورتیں‘ میں تینوں خواتین (ثریا، شمشاد اور محمودہ) یہی ثابت کرتی ہیں۔ وہ خود کو زمین کی خاموش ترین خواتین سمجھتی ہیں۔ اس ڈرامہ میں دکھایا گیا ہے کہ خاموشی جب بولتی ہے اور بغیر رکے بولتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ اس ڈرامہ کی خاص بات یہ ہے کہ تینوں خواتین کا کردار تین مرد فنکاروں نے ادا کیا اور بحسن وخوبی ادا کیا ہے۔

’آفت میں ہے جان‘ ڈرامہ ایک ایسے بیمار شخص کے گرد گھوم رہا ہے جو معمولی بیماری میں مبتلا ہے لیکن جو لوگ اس سے ملنے آتے ہیں، وہ اس کی بیماری کو زندگی کے لیے خطرہ بننے والی ایک بڑی بیماری قرار دیتے ہیں اور اسے اپنے خیالات کو تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہر آنے والا شخص بیمار کو ایک نسخہ دیتا ہے جو منطق سے بالاتر ہے اور سامعین میں بھرپور مزاح پیدا کرتا ہے۔ ہدایتکار اقبال نیازی نے چند تبدیلیوں کے ساتھ اس ڈرامہ کو پیش کیا ہے۔ ڈرامہ کا ہر کردار ناظرین کو ہنساتا ہے۔

’آؤ کھوج لگائیں‘ ڈرامہ بھی منٹو نے ریڈیو کے لیے ۱۹۲۹ء میں لکھا تھا۔ اس ڈرامہ کو اب تک اسٹیج پر نہیں لایا گیا تھا۔ کردار اکیڈمی نے سب سے پہلے اسے اسٹیج کیا ہے۔ یہ ڈرامہ کشور، اس کی اہلیہ لاجونتی اور کشور کے دوست نارائن کے گرد گھومتا ہے جو ایک چور سے بہت پریشان ہیں۔ جس نے گھر کا سب کچھ چوری کر لیا ہے۔ لیکن پوری کہانی کا رخ تب بدل جاتا ہے جب چور پوری طرح سے مزاحیہ فنکارانہ انداز میں فنون لطیفہ کے معنی کو واضح کرتا ہے اور ناظرین سے خوب داد وصول کرتا ہے۔

ہاؤس فل آڈیٹوریم میں شو کے اختتام پر زوردار تالیوں کی گونج کے درمیان ناظرین کھڑے ہوئے اور’کرداراکیڈمی‘ کی اس انوکھی پیشکش کو زبردست داد و تحسین سے نوازا۔ آج کل ڈرامہ، فلم کی تکنیک پر بنایا جارہا ہے حالانکہ ڈرامہ کے کچھ لوازمات ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اس بات سے کردار اکیڈمی بخوبی واقف ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہدایتکار اقبال نیازی کے اصلاحی ڈراموں اور معیاری کامیڈی کو ڈرامہ شائقین کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملتی رہی ہے۔

(فیصل فاروق ممبئی میں رہائش پذیر کالم نگار اور صحافی ہیں)

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply