آہ ! ماسٹر محمد امان اللہ

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️

ماسٹر محمد امان اللہ سمری بختیار پور کا ایک جانا پہچانا نام، ایک آواز جو ہمیشہ ظلم و بدعنوانی  کے خلاف بلند ہوتا رہا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا. ریٹائرڈ ٹیچر محمد امان اللہ جنہوں نے  اس علاقے میں آر ٹی آئ کے سرگرم  کارکن کی شکل میں اپنی پہچان بنائی. 2005 کے آخر میں سرکاری سروس سے  رٹائرڈ ہونے کے بعد وہ اپنے آپ کو سرکاری محکموں اور دیگر جگہوں پر ہونے والے بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے وقف کر دیا اور آر ٹی آئی کو ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنا شروع کر دیا. اس قدم سے انکے دوست سے زیادہ دشمن بن گئے مگر انہوں نے قدم پیچھے نہیں کیا. سمری بختیار پور کے علاقے میں آر ٹی آئ کو بڑھاوا دینے کے لئے انہوں نے چند  سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم کی تشکیل بھی کیا. عام طور پر نصف درجن قلم انکے جیب کی نہ صرف زینت بنی رہتی تھی بلکہ یہ ان کی پہچان ھی بن گئی تھی.

ادھر چند ماہ سے بستر علالت  پر رہے اور آخرکار 9 اپریل کو داعی اجل کو لبیک کہا. بعد نماز ظہر جناب  سید قسیم اشرف نے انکی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد اشرف چک قبرستان میں سپرد خاک کر دئے گئے.
ان کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ 6 لڑکے اور ایک لڑکی کے ساتھ ساتھ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بھرا پورا گھر شامل ہے.
ادھر پسماندگان سے ملنے اور تعزیت کرنے کھگڑیا کے ممبر پارلیمنٹ چوہدری محبوب علی قیصر ان کے  رانی باغ رہائش گاہ پر پہنچے اور ان کے صاحبزادے نوراللہ، قیص اللہ اور اعجازاللہ سمیت دیگر افراد سے ملاقات کر تعزیت کی. 
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *