مولانا حالی فارسی کے ایک بڑے شاعر تھے: تقی عابدی

مولانا الطاف حسین حالی کی فارسی شاعری پر شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں توسیعی خطبہ اور ’’سوغات‘‘  کی رسم اجرا

?
(سوغات کی رسم اجرا کے موقع پر پروفیسر صبیحہ زیدی، پروفیسر عزیز الدین حسین،  پروفیسر عراق رضا زیدی، علی ظہیر نقوی، ڈاکٹر تقی عابدی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر سید کلیم اصغر)

نئی دہلی، ۱۶؍ فروری:
شعبۂ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے رواں تعلیمی سال کے دوسرے توسیعی خطبے کااہتمام کیاگیا۔ خطبہ کا آغاز دانش اقبال نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ نظامت کے فرائض توسیعی خطبات کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر سید کلیم اصغر نے انجام دیے۔ خطبہ کے مقرر خاص مشہور محقق اور فیزیشین ڈاکٹر تقی عابدی (کناڈا) تھے جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر معروف اسکالر دانشمند پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی (سکریٹری غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی ) نے شرکت کی اور صدارت کے فرائض صدر شعبۂ فارسی پروفیسر عراق رضا زیدی نے انجام دیے ۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنے خطبہ کے دوران کہا کہ مجھے بہت مسرت ہورہی ہے کہ شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مجھے مولانا الطاف حسین حالی کی فارسی شاعری پر بولنے کا موقع دیا ، عام طو رسے لوگ حالی کو اردو کے حوالے سے جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالی اس مرتبہ پر فائز تھے کہ اقبال جیسے مستند شاعر نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ۔ حالی کی فارسی شاعری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تقی عابدی نے کہا کہ ان کی فارسی شاعری کے کل اشعار کی تعدا تقریبا سات سو ہیں جس میں رباعیات ،غزلیات ، شخصی مرثیہ اور قطعات شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالی نے جو رباعیات کہی ہیں وہ فارسی میں عمر خیام اور دوسرے معروف رباعی گو شاعروں کی تخلیقات کے ہم پلہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالی کی فارسی شاعری پر ابھی تک کام نہیں ہوا ہے۔ اگر اس پر تحقیقات کی جائیں تو لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ الطاف حسین حالی فارسی کے ایک بڑے شاعر تھے اور انہیں ایران کے بڑے شاعروں کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
پرفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ مجھے آج مولانا الطاف حسین حالی کی شاعری کے متعلق بہت ہی عالمانہ ، مفکرانہ اور مدبرانہ خطبہ سننے کو ملا اور میں شعبۂ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس عظیم خطبہ میں مہمان خصوصی کے طور پر مد عو کیا۔

Audienceاس موقع پر معروف قلم کار علی ظہیر نقوی کی تصنیف’’سوغات‘‘ کی رسم اجرا بدست جناب ڈاکٹر تقی عابدی اور پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی عمل میں آئی ۔ ڈاکٹر تقی عابدی اور پرفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے ’’سوغات‘‘ کی اشاعت اور اس کے موضوعات پر مبارکباد پیش کی ، یاد رہے علی ظہیر نقوی کی اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر دھرمندر ناتھ نے او ر تقریض پروفیسر عراق رضا زیدی نے لکھی اس کتاب میں علی ظہیر نقوی نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف موضوعات پر وقتا فوقتا لکھے گئے مضامین کو جمع کیا ہے ۔ یہ کتا ب خاص طور پر فارسی اور تاریخ کے طلبہ کے لئے نہایت ہی مفید ہے ۔
پروگرام کے آخر میں پروفیسر عراق رضا زیدی نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورخاص طور سے اس پروگرام کے مقرر ڈاکٹر تقی عابدی کا اور کہا کہ آپ کناڈا سے تشریف لائے اور ہم اسی طرح آپ کے بیانات و خطبات سے دوبارہ بھی استفادہ کرتے رہیں گے۔
اس علمی محفل کث جہاں پروفیسر سید عزیز الدین حسین (شعبہ تاریخ و ثقافت جامعہ ملیہ اسلامیہ ) ، پروفیسر صبیحہ زیدی (ڈائرکٹر منشی پریم چندرآرکائیوز) پروفیسر صدیق نیاز مند ، پروفیسر عبد الحلیم ،ڈاکٹر طاہر کاظمی ، ڈاکٹر جمال عابدی ، ڈاکٹر رحمن مصور ، ڈاکٹر سرفراز احمد ، ڈاکٹرشمع زیدی ، ڈاکٹر شاداب تبسم ، ڈاکٹر عذراعابدی ، ڈاکٹر حسین الزماں ،ڈاکٹر تمنا، ڈاکٹر زہرا خاتون ، ڈاکٹر احمد حسین ،ڈاکٹر شاہد حسین ، ڈاکٹر علاء الدین ، ڈاکٹرسید عامر ، یاسر عباس غازی، فرخ زیدی ،سردھا شنکر ، پردیپ شرما خسرو،اسفر فریدی، ریاض محمد، اورحسن مہدی جعفری کی موجودگی نے زینت بخشی وہیں بڑی تعداد میں شعبۂ فارسی کے طلبا و طالبات نے اس میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *