بنگلہ دیش کے فیصلہ کی مولانا عمری نے کی مذمت

مولانا جلال الدین عمری
مولانا جلال الدین عمری

نئی دہلی، ۱۲؍ مارچ (پریس ریلیز) جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سیدلال ج الدین عمری نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ایک اور اہم رہنما میر قاسم علی کو وزیر اعظم حسینہ شیخ کی حکومت کے منشا کے مطابق وار کرائم ٹریبونل اور سپریم کورٹ کے ذریعہ موت کی  سزا اور اس کی توثیق کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو عدل و انصاف اور انسانیت کا ایک اور خون قرار دیا ہے۔
مولانا عمری نے اس کے ساتھ ہی عالمی انسانی برادری ،حکومتوں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حقوق انسانی کے اداروں سے ظلم وستم کے اس سلسلے کو ختم کرانے کے لیے پرزور آواز بلند کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی ہند نے کہاکہ بنگلہ دیش حکومت نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو غلط ،غیر ضروری ، جھوٹے اور فرضی الزمات کے تحت مسلسل سزائیں دے کر اوروہاں اسلام کی خدمت اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کا مثالی ریکارڈ رکھنے والی محترم شخصیات کو انتقام کے جذبہ کے تحت موت سے ہمکنار کرانے کا جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے وہ خود اپنی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی بھی بدنامی کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت اور بنگلہ دیش دونوں کی شبیہ بگڑ رہی ہے جس سے اس کو خود اپنے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں گریز کرنا چاہیے۔
مولانا جلال الدین عمری نے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو یہ خیر خواہانہ مشورہ بھی دیا کہ ظلم وستم کے سفاکانہ عمل کے سلسلے میں ان کو اس پہلو سے بھی غور کرنا چاہیے کہ ان ستم رانیوں کی کل یوم حشر میں اللہ کی بارگاہ میں انہیں جواب دہی بھی کرنی ہوگی اور ان کی پولس، فوج اور عدالت ان کے کوئی کام نہیں آئیں گی۔لہذا خوف آخرت اور اللہ کی گرفت سے بچنے کے لیے انہیں آج ظلم و ستم سے بچنا اور اللہ سے تو بہ کی روش اختیار کرنا اور ملک میں امن و سلامتی اور خیر خواہی کی فضا قائم کرنا لازم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *