نہیں رہے مولانا عیسی قادری

Eisa Chacha.jpgہریوہ، سہرسہ: ضلع کے نامور علماء میں شمار مولانا عیسی قادری کا ۱۱ فروری کو پٹنہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ وہ کم و بیش ۷۰ برس کے تھے۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے صہیب وارثی، بلال وارثی اور یوسف وارثی اور ایک بیٹی ہیں۔
مولانا عیسی قادری بہت ہی خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے اور سبھوں سے مل جل کر رہتے تھے۔ خاص طور سے بچوں کو وہ بہت پیار کرتے تھے۔ ان کے انتقال سے پورے علاقے بالخصوص ہریوہ گاوں میں سوگ کی لہر ہے۔ اس سانحہ پر دارالعلوم فیضان وارث کے سابق صدر ماسٹر اویس احمد کے ساتھ ہی مولوی عذیر احمد، محمد تاثیر احمد، محمد خبیر احمد، محمد تقی احمد، حافظ نقی احمد، حیدرآباد یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہے محمد خوشتر اور ‘نیوز ان خبر’ کے ایڈیٹر اسفر فریدی نے شدید رنج و ٰٰغم کا اظہار کیا ہے۔ ادھر سعودی عرب میں مقیم ایثار احمد قادری نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ”عیسی چچا کا آج پٹنہ میں ہارٹ اٹیک ہونے سے انتقال ہوگیا۔ وہ ہمارے مشفق بھی تھے اور ہم بچوں کے دوست بھی۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور اہل ہریوہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین”
مرحوم کی تدفین جمعرات کو مقامی قبرستان میں ہوگی۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین

تصویر بشکریہ محمد خوشتر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *