جج صاحب، اپنی بیوی سے میرے بھائی کی شادی قبول ہے؟

نازیہ الہیٰ خان

Nazia

مسلم پرسنل لا یعنی مسلمانوں کے شرعی قوانین اور مسلم معاشرہ پر انگشت نمائی ان دنوں ایک فیشن سا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جو جس قدرہرزہ سرائی کرسکتا ہے وہ اتنا ہی ’سیکولر’، ‘روادار’ اور’ماڈرن‘ سمجھا جائے گا اورمسلم مخالف قوتیں اس کی ہر یاوہ گوئی کو ’دانشوری‘ کی قبا پہنا کر اہل دنیا کے سامنے پیش کریں گی۔ ایک سلسلہ ہے جو آغاز اسلام سے اکسویں صدی کی اس دوسری دہائی میں بھی جاری ہے۔ سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین کے قبیلہ کے ساتھ ساتھ جسٹس کمال پاشا جیسے افراد کا بھی ایک گروہ ہے جو فقط اپنی نام آوری اور سرخیوں میں آنے کے لیے ایسی ’نادرخیالی‘ کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

محترم جسٹس کمال پاشا نے اپنا یہ ’نادر خیال’ ایک ایسے اسٹیج سے پیش کیا ہے جسے قاضی کوڈ میں ‘پنرجنیہ چیری ٹیبل ٹرسٹ’ نے عورتوں کی ترقی پسندی کے نام پر سجایا تھا اورجس کے کرتا دھرتا و پس پشت زعفرانی ذہنیت کے حامل افراد ہیں۔ ان کی خواتین ’ترقی پسندی‘ کا تمغہ سجائے معاشرہ میں بے راہ روی کی تبلیغ کررہی ہیں۔ اس لیے اس اسٹیج سے اسلام پر سنگ ملامت کا اچھالاجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اس اسٹیج سے جسٹس موصوف نے اسلام، مسلمانوں اورعلماء کرام کو سر دار کھڑا کردیا اور یکے بعد دیگرے ان کے خلاف فرد جرم عائد کردیا ۔ اسلام کو عورت مخالف قرار دیا، مسلمانوں کو فرسودگی کا طعنہ سنایا اور علماء کرام کی قابلیت پرسوال کھڑے کیے اور عورتوں کی بیک وقت چار شادیوں کا ’فیصلہ‘ سنا ڈالا۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ محترم جسٹس کمال پاشا کے ان خیالات کو ’نام آوری‘ اور ‘شہرت‘ کے حصول کی ایک کوشش قرار دی جائے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی اپنی علمیت اور قابلیت پر پڑے پردے کو بھی اٹھایا جائے اور انہیں یہ بتایا جائے کہ اسلام ہی واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو مردوں کے نہ صرف برابر قرار دیا ہے بلکہ اسی مذہب نے دنیا میں سب سے پہلے عورتوں کے حقوق طے کیے ورنہ اسلام سے قبل تو آج کے جدیدترین سمجھے جانے والے یوروپ کے کلیسائوں میں بھی عورت داروغہ جہنم ہی سمجھی جاتی تھی۔ ایک جنس کی طرح اس کی خرید و فروخت عام تھی۔ وقار اور عزت تو دور کی بات ہے اسے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جسٹس کمال پاشا کو بازخوانی کی ضرورت ہے۔ وہ ایک بار تاریخ اسلام کے ساتھ تاریخ یوروپ کا بھی سرسری جائزہ لے لیں اور اس کا تقابلی مطالعہ کریں، عین ممکن ہے ان کی ’غلط فہمی‘ رفع ہوجائے گی اگر صحیح معنوں میں کوئی غلط فہمی ہے تو۔
جسٹس موصوف کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ صرف مسلمان مرد ہی چارشادی کیوں کرسکتے ہیں، مسلمان عورت ایک وقت میں چارشادی کیوں نہیں کرسکتی ہے؟

انہیں شاید یہ علم نہیں ہے کہ قرآن دنیا کی واحد الہامی کتا ب ہے جو ایک ہی شادی کی ترغیب دیتی ہے اور کوئی ایسی مقدس کتاب موجود نہیں ہے جو ایک شادی کا حکم دیتی ہو۔

آپ پوری گیتا، رامائن اورمہا بھارت دیکھ لیں کہیں آپ کو یہ لکھا نہیں ملے گا کہ ایک شادی کرو حتی کہ بائبل میں بھی آپ ایک شادی کا حکم تلاش نہیں کر سکیں گے۔

اگر آپ ہندوستانی قانون کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پہلی دفعہ ۱۹۵۴میں کثرت ازدواج پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس سے قبل ہندوستان میں قانونی طور پر بھی مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت تھی۔ سن ۱۹۵۴ میں ہندو میرج ایکٹ کا نفاذ ہوا جس میں ہندوؤں کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ اگر آپ اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو صورتِ حال آپ کے سامنے واضح ہو جائے گی۔ ایک تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہندوؤں میں ایک سے زائد شادیوں کی شرح ۶ فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح اس سے کہیں کم ۴ء ۳۰ فیصد ہے۔

اس وقت قرآن ہی دنیا کی واحد مذہبی کتاب ہے جو ایک شادی کا حکم دیتی ہے۔ سورہ نسا میں کہا گیا ہے کہ (ترجمہ)
’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔‘

یہ حکم کہ پھر ایک ہی شادی کرو، قرآن کے علاوہ کسی صحیفہ مقدسہ میں نہیں دیا گیا۔ عربوں میں اسلام سے قبل مرد بہت سی شادیاں کیا کرتے تھے۔ بعض مردوں کی تو سیکڑوں بیویاں تھیں۔ اسلام نے ایک تو بیویوں کی حد مقرر کر دی اور زیادہ سے زیادہ تعداد چار معین کردی اور ایک سے زاید شادیوں کی صورت میں ایک بہت سخت شرط بھی عاید کردی وہ یہ کہ اگر آپ ایک سے زائد شادیاں کرتے ہین تو پھر آپ کو اپنی دونوں، تینوں یا چاروں بیویوں کے درمیان پورا عدل کرنا ہو گا بصورتِ دیگر ایک ہی شادی کی اجازت ہے۔ پوری دنیا کا موجودہ منظرنامہ ہمیں بتاتا ہے کہ بالعموم مسلمان ایک ہی شادی کرتے ہیں۔

جہاں تک عورتوں کی چار شادی کی بات ہے، اس پر میں کچھ نہیں کہوں گی۔ جسٹس موصوف عاقل و بالغ ہیں، آزاد ہیں، روادار ہیں، برداشت اور تحمل کا مادہ ہے ان کے اندر اورسب سے بڑی بات ہے کہ وہ جسٹس ہیں ان کے فرمودات عالیہ پر کوئی سوال کھڑا کرکے میں ان کی شان میں گستاخی کی مرتکب نہیں ہوناچاہتی۔ جسٹس ذی وقارعورتوں کی چارشادی کی وکالت کررہے ہیں میں ان کی اہلیہ محترمہ کے لیے اپنے بھائی کا رشتہ پیش کررہی ہوں۔ کیا انہیں قبول ہے؟

مضمون نگار کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *