جشنِ صحافت کا سلسلہ جاری رہے گا: پرو فیسر ارتضیٰ کریم

IMG_6256

نئی دہلی، ۱۱ فروری (پریس ریلیز): قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ’اردو صحافت کے دو سو سال‘ کے عنوان سے منعقدہ سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ کانفرنس ختم ہوگئی مگر جشنِ صحافت کا سلسلہ مختلف شہروں میں جاری رہے گا۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جو ماضی میں صحافت کا گہوارہ رہے ہیں، جیسے مراد آباد، رام پور، بجنور، آگرہ، مدراس، گلبرگہ اور پنجاب کے کچھ علاقے جہاں کی صحافتی تاریخ بہت درخشاں رہی ہے۔ انھوں نے عالمی اردو کانفرنس کی کامیابی کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے تمام احباب کا بطور خاص شکریہ ادا کیا جنھوں نے نمایاں طور پر کانفرنس کی خبروں کو اخبارات میں شائع کیا اور چینلوں پر نشر کیا۔انھوں نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا سہرا انہی کے سر ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ کانفرنس انہی کے موضوع اور مسائل سے متعلق تھی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے بعض اخبارات میں قیاس آرائیوں پر مبنی تبصروں پر اپنے ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس سے قطعی طور پر شکستہ دل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے ہمیں اپنے احتساب میں مدد ملتی ہے اور حوصلوں کو نئی اڑان ملتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہےں سنگِ گراں اور‘ مگر یہ سنگِ گراں ہماری راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ہم بادِ مخالف میں بھی اردو کی شمع جلاتے رہےں گے یہ ہمارا عزم اور ارادہ ہے۔ہم مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ اردو کے کاز کے لیے آگے بڑھتے رہےں گے۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقعے پر یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں ہر سطح کے اخبارات نکلتے ہیں۔ بڑے، منجھلے اور چھوٹے۔ کچھ کم معروف اخبارات بھی ہیں اور کچھ علاقائی بھی جن کی رسائی مرکزی علاقوں تک نہیں ہوپاتی، کونسل ان تمام اخبارات تک رسائی کی کوشش کرے گی۔ انھوں نے اس موقعے پر ہندوستان کے تمام اردو اخبارات کے مدیران سے اپیل کی کہ وہ اپنے اخبارات کی تمام تر تفصیلات (سنہ اشاعت، مقامِ اشاعت، تعدادِ اشاعت، مدیران، سرکولیشن اور سرِورق کا عکس) قومی کونسل کو ارسال کریں تاکہ اردو اخبارات کی ایک ڈائرکٹری ترتیب دی جاسکے ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح ہندوستان کا پورا صحافتی منظرنامہ سامنے آئے گااور چھوٹے اخبارات تک پہنچنے میں بھی ہمیں مدد ملے گی۔
قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے عالمی اردو کانفرنس کی کامیابی کے لیے غیرملکی مندوبین کے علاوہ ان تمام مقالہ نگاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے مضامین سے اردو صحافت کے بہت سے اہم پہلو عوام کے سامنے آئے۔ انھوں نے جامعات کے طلبا اور اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے یہ بھی کہا کہ صحافت کے ابھی اور بھی مسائل ہیں جن پر گفتگو باقی ہے۔ مستقبل میں بھی صحافت کے موضوعات اور متعلقات پر قومی اردو کونسل کے پلیٹ فارم سے گفتگو ہوتی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *