دور حاضر میں میڈیا کا رول

جلال الدین اسلم
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا نے حسب روایت اس بار بھی اپنے سالانہ محفوظ الرحمن میموریل لکچر کا پروگرام ۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۵ کو نئی دہلی کے غالب اکیڈمی ہال میں شام چار بجے رکھا ہے۔ خصوصی لکچر کا عنوان ہے ’’دور حاضر میں میڈیا کا رول‘‘۔ عنوان بظاہر ہلکا پھلکا اور آسان ہے لیکن اپنی معنویت میں بڑی وسعت اور گہرائی رکھتا ہے، کیونکہ ماضی میں میڈیا کا رول بڑا ہی تابناک اور روشن تھا البتہ دور حاضر میں اس کی روشنی بتدریج مدھم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کل تک میڈیا کا رول ایک مشن کے طور پر تھا اور اب محض کاروبار بن گیا ہے۔
پیشۂ صحافت جب تک مشن تھا، اس سے جڑی شخصیات کا کردار و عمل بھی لوگوں کے لیے مثالی تھا، ان کی نوک قلم سے نکلا ایک ایک حرف معاشرے کی اصلاح کا باعث ہوتا تھا لیکن جب سے صحافت کی اعلیٰ مشنری اقدار نے کروٹ لی ہے، صحافت مشن کی بجائے صنعت و تجارت کا درجہ اختیار کرگئی اور وہ بھی ایسی تجارت جس کا مقصد ہی خود غرضی و مفاد پرستی پر مبنی ہے۔ ظاہر ہے اس کے جو نتائج برآمد ہونے تھے، وہ آج ہم سب کے سامنے ہیں۔
دور حاضر کا ایک ستم یہ بھی ہے کہ صحافت کے کاروبار بن جانے سے مشن کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف مالی منفعت کو ہی اصل مقصد قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ صحافت کے کاروبار بن جانے سے نظریہ اور جدوجہد کی کش مکش بھی زندہ رہنی چاہیے تھی اور تجارت کو ثانوی درجے میں رکھنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا صحافتی ضابطۂ اخلاق محض کتابی آئیڈیالوجی ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمارے ملک میں پریس آزاد ہے، ہمارے آئین نے بنیادی حقوق کے باب میں تحریر و تقریر کی آزادی کی ضمانت دی ہے لیکن یہ آزادی بے قید نہیں ہے، اس کے ساتھ کچھ شرطیں بھی وابستہ ہیں جن میں بنیادی شرط یہ ہے کہ کوئی ایسا مواد نہ شائع کیاجائے جو فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتا ہو۔ ہمارے اخبارات کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق بھی ترتیب دیا گیا ہے جس میں کسی بھی طرح کی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے ملک میں ایک پریس کونسل بھی ہے جس کا مقصد دوسری چیزوں کے علاوہ اس بات پر بھی نظر رکھنا ہے کہ اخبارات و رسائل فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ نہ بنیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہمارے اخبارات کا دامن اس معاملے میں صاف نہیں رہ سکا ہے۔ یہ اخبارات خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، بہت ہی سلیقے سے یا پھوہڑ پن کے ساتھ فرقہ وارانہ ماحول کو مسلسل خراب کرتے رہے ہیں، اس میں اردو ہندی کے علاوہ انگریزی کے وہ بڑے بڑے اخبارات بھی برابر کے شریک رہے ہیں جو بڑے سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں۔ یہ عملاً اپنے مالکان کے زاویۂ نگاہ کو پیش کرنے کے پابند ہیں اور ان دھنا سیٹھوں کا زاویۂ نگاہ اس قدر ٹیڑھا ہوتا ہے کہ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوٹتی۔
ہمارے الکٹرانک میڈیا کا حال تو اور بھی نرالا ہے۔ یہ تو پانی میں بھی آگ لگاکر تماشہ دیکھنے کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران ملک کے اندر سیاسی اتھل پتھل میں الکٹرانک میڈیا نے جو کردار پیش کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، فرقہ واریت کا امڈتا سیلاب پورے ملک کو اپنے بھنور میں لے لینے پر آمادہ نظر آرہا ہے ،مگر ہمارے میڈیا کو تو اپنے مفادات سب پر بھاری اور سب سے پیارے ہیں، تو ایسے میں بندھ کون باندھے۔
آج سے تقریباً تیس سال قبل لکھنؤ کے ایک ممتاز صحافی جناب صلاح الدین عثمانی نے اس سلسلے میں چند انگریزی اخبارات کی روش کا بہت ہی گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا تھا جسے ہم قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے انگریزی اخبارات فرقہ واریت کی دلدل میں کس حد تک ڈوبے ہوئے ہیں۔
کچھ دنوں پہلے ’’پٹرو ڈالر‘‘ کا ہوا کھڑا کیا گیا اور اخباروں میں شور مچا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس عرب ممالک سے پٹرو ڈالر کا ایک دریا بہتا آرہا ہے تاکہ وہ پٹرو ڈالر بانٹ کر ہندوؤں کو مسلمان بنائیں۔ یہ شور ختم نہیں ہوا تھا کہ شاہ بانو کے مقدمہ کا ہنگامہ شروع ہوا۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ شاہ بانو کے مقدمہ میں عدالت عالیہ کے فیصلے سے ناخوش تھا تو ہندی کا مارواڑی پریس مسلمانوں اور شریعت اسلامیہ کے خلاف صف آرا ہوگیا۔ ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا کہ کیرل کی زلیخا بی بی کے قصہ پر ایک شور برپا کیا گیا کیونکہ زلیخا بی بی کو کسی مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے کچھ ممبروں نے جن میں ایک کمیونسٹ ممبر پیش پیش تھا، پریشان کیا تھا۔ پریس میں اس قصہ کو لے کر ایسا شور مچایا گیا کہ جیسے چند ناعاقبت اندیش اور بدطینت آدمی نہیں بلکہ پورا مسلم فرقہ اس حرکت کا ذمہ دار ہے۔
اس کے بعد السٹریٹڈ ویکلی (ممبئی) اور اسی کمپنی کے دوسرے اخبارات نے کلام مجید، پیغمبر اسلام (ﷺ) اور شریعت اسلامیہ کے خلاف نہایت دریدہ دہنی کے ساتھ کذب و اخترا ع کا ایک نیا ہنگامہ کھڑا کیا۔ اسلام دشمنی اور دریدہ دہنی کی یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ بابری مسجد کی عمارت کو ایک فریق کے حوالے کردیا گیا اور مسلمانوں کو اس کے قریب جانے کی ممانعت کردی گئی۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں اور مسلمان بادشاہوں کے خلاف ایک مہم شروع کردی گئی اور بالآخر بابری مسجد ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ کو شہید کردی گئی۔
اقلیتوں خصوصاً عیسائیوں اور مسلمانوں کے خلاف اس ’’دھرم یدھ‘‘ میں دیگر کئی اخبارات بھی شامل ہیں لیکن سبھی کے خیالات ان کالموں میں سمونا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے اس وقت صرف ہندوستان ٹائمز کے ۲۰؍ فروری ۱۹۸۶ کو جو بابری مسجد کے بارے میں ایک اداریہ شائع ہوا تھا، اسے ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ پاک دامنی کے دعویدار اخباروں کے مدیران کے دامن کتنے صاف ستھرے ہیں۔ ’’تنگ نظروں کو الگ کرو‘‘ کے عنوان سے اس اداریہ میں اخبار کے ایڈیٹر صاحب فرماتے ہیں:
’’اجودھیا کے مندر کو دوبارہ کھولے جانے پر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شمالی ہندوستان کے ہندو دیوتاؤں میں سب سے محترم دیوتا کی جائے پیدائش ہے، مسلمان مذہبی جنونیوں کو شمالی ہندوستان میں فسادات کرانے پر اکسا دیا گیا ہے۔ بظاہر اس بنیاد پر کہ اس سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے کیونکہ اس کے قریب ایک مسجد ہے۔ حالانکہ اسے کوئی استعمال نہیں کرتا۔ ظاہری طور پر پاگلوں کی یہ جماعت مسلم فرقہ کے باعقل اور سیکولر طبقہ کی نمائندگی نہیں کرتی۔ مسلمانوں کا دوسرا طبقہ آج یقیناًاس دن کو کوس رہا ہوگا جس دن بابر نے اپنے گناہ عظیم کا یہ نمونہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا تھا۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی یہ پہلی ٹولی آج بھی اپنے آبا و اجداد کی حماقتوں کو بھولنے پر تیار نہیں اور یہی گروہ دونوں فرقوں کے لیے مسائل کھڑا کرتا ہے۔ اس نے ناند میں بیٹھنے والے کتے کی پالیسی پر عمل کرکے فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کیا۔ یہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں میں سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں کو مذہبی بنیاد پرستوں نے اسی طریقہ سے خاموش کردیا ہے جس طریقہ سے ہنگامہ پرور خالصتان حامیوں کی ٹولی نے باشعور سکھوں کی زبان بند کر رکھی ہے۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ بابر کی تاریخی غلطیوں کو سدھاریں، وہ اپنے دلوں میں اچھی طرح جانتے ہیں، وہ چاہے مولویوں کے خوف سے اس کو علی الاعلان نہ کہیں کہ قدیم رام مندر کو توڑ کر مسجد بنانا ایک انتقامی کارروائی تھی، جو ان ہندوؤں کی توہین کرنے کے لیے کی گئی تھی جن کو مغل فاتحوں کے تحت رہنا پڑ رہا تھا۔ بابر کی اس بھیانک حرکت پر اظہار ندامت کے طور پر اس کو بھلانے کے لیے روشن خیال مسلمانوں کو آگے بڑھ کر رام مندر کو عہد گذشتہ کے پرشکوہ مندر کی تعمیر میں مدد کرناچاہیے۔‘‘
یہ اداریہ ان زہریلی گالیوں کا صرف ایک نمونہ ہے جو مسلمانوں کو آزاد ہندوستان کے آزاد پریس کی جانب سے دی جاتی رہتی ہیں۔ مذکورہ اخبار نے چند دنوں کے اندر ہی کئی ایسے زہریلے اداریے اس عمارت کے کھلنے کے بعد لکھے جو حکومت یوپی کے حلف نامے کے مطابق مسلمانوں کی مقبوضہ مسجد ہے اور جس میں برابر نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔
آج پورا ملک فرقہ واریت کی زد میں ہے اور اس کے ذمہ دار وہ سیاست داں اور صحافی حضرات ہیں جنہوں نے سیکولر آئین کا دن رات وظیفہ پڑھنے کا عمل اختیار کر رکھا ہے لیکن ان کی زبان و قلم سے نکلنے والے الفاظ شعلہ بن کر ملک کی قومی یکجہتی کو جلاکر بھسم کردیتے ہیں۔ آخر ہمارا ضابطۂ اخلاق اور پریس کونسل ایسے موقعوں پر تماشائی کیوں بن جاتی ہیں؟ آج کا الکٹرانک میڈیا جس کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ معاشرے کو تعمیری عمل کی جانب لے جائے، مگر بدقسمتی کہ میڈیا اپنا فرض نبھانے کی بجائے سیاست دانوں، حکمرانوں اور اپنے مالکوں کی مدح سرائی میں مصروف ہوگیا ہے۔ اس لیے اب اگر کوئی میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہنے کی بجائے کارپوریٹ میڈیا کہتا ہے تو کیا غلط کہتا ہے۔
دور حاضر میں میڈیا کا رول یقیناًمایوس کن ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ میڈیا ایک کھیتی کی مانند ہے، باوجود تباہ حالی کے اکا دکا ابھی ایسے دانے موجود ہیں جن کو اگر زمین ہموار مل جائے تو یقینی طور پر موجودہ اوبڑ کھابڑ بنجر زمین کو بھی کشت زرع میں بدل دیں۔ یعنی آج بھی ایسے حق گو اور بیباک صحافی موجود ہیں جو قلم کی حرمت پر سب کچھ قربان کردیں اور وہ ضمیر کی آواز حق سے کسی بھی لمحہ غافل نہیں۔ یہی لوگ ہیں جو سچ کی کھیتی کی خون جگر سے آبیاری کر رہے ہیں اور حق کی فصل تیار کرنے میں اپنے آپ کو خاک میں ملاکر انسانی معاشرے کو گل گلزار بنانے کی سعی میں اپنی جانیں ہلکان و قربان کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب وہ طبقہ ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔وہ جنگلی جانوروں کی طرح پوری پوری کھیتی کو ہی چر لینے اور اسے تباہ کردینے پر آمادہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے نزدیک ’’متاع لوح و قلم‘‘ محض دنیا سنوارنا اور بنانا ہی قرار پایا ہے۔ اسی لیے تو دنیا اسے ’’سچائی کا سوداگر‘‘ اور ’’جھوٹ کا امام‘‘ کہتی ہے۔
بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے میڈیا کے قبلہ کو صحیح سمت دی جائے اور اس میں موجود ان کالی بھیڑوں کو باہر نکال باہر کیا جائے جن سے آج ملک کا سیکولر آئین اور قومی یکجہتی خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے۔ یہ کام ملک کے سیکولر اور انصاف پسند عوام بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ اسی طرح جس طرح دہلی اور بہار کے عوام نے انتخابات کے موقعوں پر فسطائی قوتوں کے ڈھنڈورچیوں کو اپنے حق رائے دہی کے ذریعہ انجام دیا ہے۔دوسری صورت میں حالات دن بہ دن خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *