پھنساہا اور مبارکپور میں ہائی اسکول کھولنے کی مانگ

وجیہ احمد تصور ✍️
سہرسہ…. سمری بختیار پور کے پہاڑ پور میں واقع سفائر ہائی وے اسکول میں ایک میٹنگ ڈائریکٹر ناظم انور کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں اہم لوگوں نے شرکت کی. میٹنگ میں اسکول کے انتظامی امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا. اس میٹنگ میں اہم بات جو سامنے آئ وہ یہ ہے کہ سلکھوا بلاک کے ہریوا اور مبارکپور پنچایت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے. ان دونوں پنچایت کے لوگوں میں تعلیمی بیداری بہت ہے لیکن بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہائی اسکول سطح کا تعلیم حاصل کرنے کے لئے طلباء کو کافی دور اسلامیہ ہائی اسکول یا سمری بختیار پور ہائی اسکول، پروجکٹ گرلس ہائی اسکول وغیرہ کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے جس سے طلباء خاص طور پر طالبات کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ادھر ہریوا اور مبارکپور پنچایت کے وسط میں پھنساہا گاؤں واقع ہے جہاں نہ صرف تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی آباد ہے بلکہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ نوکری پیشہ افراد اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ایک مڈل اسکول ہے جس میں پھنساہا، گورگانواں ، منگل ٹولہ ، ھریوا اور دیگر علاقوں سے بچے آتے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن مڈل کے بعد ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرنا کافی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے اس لئے یہاں ہائی اسکول کا ہونا بہت ضروری ہے۔اور سب سے بہتر ہوگا کہ پھنساہا مڈل اسکول کو اپگریڈ کر کے ہائی اسکول کا درجہ دے دیا جائے ساتھ ہی ساتھ مبارک پور گاؤں جو علاقے میں تعلیمی و ادبی میدان میں الگ پہچان رکھتے ہیں میں ایک مڈل اسکول ہے جسکی ایک عمارت ہے جو نا مکمل اور ادھوری ہے اگر اسے مکمل کر دیا جاۓ اور پرانی عمارت کو توڑ کر دو منزلہ عمارت تیار کردیا جائے تو ہائی اسکول کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے.
میٹنگ میں سفائر ہائی وے اسکول کے ڈائریکٹر محمد ناظم انور، دہلی پردیس اقلیتی کانگریس کے سابق نائب صدر و سفائر ہائی وے اسکول کے سکریٹری کوثر اشرف، بہار پردیش کانگریس اقلیتی سیل کے کنوینر چاند منظر امام، محمد علی حسن، عبدالباسط، محمد تاج علی، فضیل اشرف ، محمد خورشید عالم سابق مکھیا، محمد افضل، محمد انور وغیرہ اہم شخصیات نے شرکت کر بہار کے وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے طلباء کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے پھنساہا مڈل اسکول کو اپگریڈ کر ہائی اسکول کا درجہ دینے کی مانگ کی ہے.

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply