سہرسہ میں امارت شرعیہ کی میٹنگ منعقد

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️
آج سہرسہ میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کی ایک خصوصی میٹنگ میر ٹولہ جامع مسجد میں منعقد کی گئی جس کی صدارت ڈاکٹر ابوالکلام صاحب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد سہراب عالم ندوی نے انجام دیئے. میٹنگ کی شروعات قاری محمد نوراللہ  کے تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ نعت رسول مقبول پیش کرنے کی سعادت حافظ عبدالقدوس نے حاصل کی.
گذشتہ 6-7 نومبر کو سہرسہ میں امارت شرعیہ کا دو روزہ تربیتی اجلاس کے تاریخی اور شاندار کامیابی پر تمام استقبالیہ کمیٹی کا شکریہ ادا کرنے اور بلاک سطح پر منتخب امارت کے صدر اور سکریٹری کو ان کی ذمہ داری سمجھانے کے لئے منعقدہ اس میٹنگ میں امارت شرعیہ کے نائب ناظم حضرت مفتی سہراب ندوی صاحب نے فرمایا کہ آج کے حالات میں ہمارے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے قوم  متحد کیسے رہے اور ان کا  تعلیمی معیار کیسے بلند ہو اسی فکر میں لگے رہتے ہیں اور ہملوگوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم قوم کی فکر  اوڑھیں تاکہ پستی اور تنزلی کے گڈھے سے قوم کو نکالا جا سکے.
امارت شرعیہ نے پہلی بار بلاک اور پنچایت سطح پر کمیٹی تشکیل دے کر مقامی لوگوں کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کریں یا جہاں ضرورت ہو تو امارت شرعیہ کی مرکزی دفتر سے بھی مدد لی جائے. قوم میں تعلیمی بیداری کی ضرورت ہے اور بچوں کو اردو زبان سے واقف کرانے کے لئے مکتب کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اور مکتب و مدرسے نہیں ہیں تو اس سلسلے میں مقامی سطح پر کوشش کی جائے جس کے لئے مرکزی دفتر ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے. انہوں نے تمام بلاک صدور اور سکریٹریز کو اپنی ذمہ داری دینی فریضہ اور قومی ذمہ داری سمجھ کر اخلاص اور ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی ضرورت پر زور دیا. انہوں نے بلاک کے ذمہ داروں کو 15 دنوں کے اندر ہر پنچایت سے دو فعال لوگوں کا نام و پتہ موبائل نمبر کے ساتھ ضلع کے ذمہ داروں کو جمع کرنے کی ہدایت دی ساتھ ہی تمام لوگوں سے این آر سی کے کاغذات درستگی کی طرف توجہ دینے پر بھی زور دیا تاکہ اپنے طرف سے کسی طرح کی کمی رہنے نہ پائے. انہوں نے تاریخ ساز اجلاس کے لئے سہرسہ کے لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیا اور شکریہ ادا کیا.
اس سے پہلے معاون ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا قمر انیس نے کہا کہ امیر شریعت دن رات قوم کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں اور اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ بچوں کو جدید تعلیم سے جوڑنے کے لئے رحمانی 30 کی شروعات کرکے انجینئر اور ڈاکٹر بننے کا راہ ہموار کیا اور اب جلد ہی بچوں کی کوچنگ کی شروعات کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلم بچوں کا داخلہ نوودئے اسکول میں ہوجائے اور وہاں سے میٹرک کرنے کے بعد رحمانی 30 سے استفادہ حاصل کر آئی آئی ٹی اور میڈیکل کی راہ مسلم بچوں کے لئے آسان ہوجائے.
میٹنگ میں شرکت کرنے والے اہم لوگوں میں ضلع راجد کے سابق صدر محمد طاہر، ڈاکٹر محمد طارق، محمد محی الدین راعین، حافظ محمد ممتاز رحمانی، وجیہ احمد تصور ،عقیل احمد، مسعود اختر جاوید، محمد آفتاب ندوی، فیروز عالم، پروفیسر محمد نعمان، مولانا عبدالباری، محمد شکیل احمد، محمد منظور، مولانا عبدالصمد رحمانی، محمد جاوید عالم، محمد اسلام، عبدالستار، معراج عالم سمیت مختلف بلاکوں کے ذمہ داران وغیرہ شامل تھے.
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply