اقلیتوں اسکیموں کے نفاذ کو چیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں: نجمہ ہیپت اللہ

The Union Minister for Minority Affairs, Dr. Najma A. Heptulla addressing at the inauguration of the Annual Conference of State Minorities Commissions, in New Delhi on February 24, 2016.

وِگیان بھون میں منعقدہ سالانہ کانفرنس میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے اہل کاروں نے افسروں کے سامنے اپنے مسائل بیان کیے

نئی دہلی، ۲۴ فروری (ڈاکٹر قمر تبریز): قومی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ آج دہلی کے وِگیان بھون میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی سالانہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ کمیشن کے چیئرمین نسیم احمد نے سب سے پہلے مہمانوں کا استقبال کیا اور کانفرنس کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن اور ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے دائرۂ اختیار الگ الگ ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہیں، پھر بھی ہر سال یہ کانفرنس اس لیے منعقد کی جاتی ہے، تاکہ دونوں کے تال میل سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کو بہتر ڈھنگ سے نافذ کیا جا سکے اور اس بات پر غوروفکر کیا جا سکے کہ ہندوستانی اقلیتوں کے لیے کمیشن مزید بہتر طریقے سے کیسے کام کر سکتا ہے۔

اس کے بعد مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ نے افتتاحی تقریر کی۔ اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ لوگوں کو صرف مذہب ہی متحد نہیں کرتا، بلکہ کلچر بھی کرتا ہے اور پوری دنیا میں ہندوستان کی یہی ایک الگ خاصیت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر بننے کے بعد انھوں نے سب سے زیادہ زور مسلمانوں کی تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ پر دیا۔ تاہم انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ مرکزی حکومت کا کام پالیسی بنانا ہے، ان پالیسیوں کو نافذ کرنا ریاستی حکومت کا کام ہے۔ درمیان میں انھوں نے ایک عجیب و غریب بات یہ بھی کہی کہ مرکزی حکومت کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے، جس سے وہ یہ چیک کر سکے کہ آیا اقلیتی فلاحی اسکیمیں ملک بھر میں نافذ ہو رہی ہیں یا نہیں۔ بعد میں ہندوستان بھر کی مختلف ریاستوں سے آئے اقلیتی کمیشنوں کے نمائندوں نے بھی اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ ضلع کی سطح پر جو بھی سرکاری افسر ہوتا ہے، وہ اقلیتی اسکیموں کو نافذ کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا، جس کی وجہ سے اقلیتوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے تو یہاں تک کہا کہ ان افسروں میں سے اکثر کو تو یہ بات بھی نہیں معلوم ہوتی کہ مرکزی حکومت نے اقلیتوں سے متعلق کیا کیا اسکیمیں بنائی ہیں، انھیں نافذ کرنے کی بات تو بہت دور رہی۔ لہٰذا کانفرنس کے دوران زوردار مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان افسروں کو ٹریننگ کے دوران اقلیتی اسکیموں کے بارے میں بھی جانکاری دی جانی چاہیے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے رکن پروین ڈاور نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جہاں جہاں ضلع انتظامیہ درست ہے اور جہاں جہاں کے ڈی ایم ان اسکیموں میں دلچسپی لے رہے ہیں، وہا وہاں کام ٹھیک چل رہا ہے۔ انھوں نے ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی ریاست کی سرکار کو اس جانب توجہ دلائیں، تاکہ ملک بھر کی اقلیتوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکے۔

Najma Heptullah_NCM Annual Conference

نجمہ ہیپت اللہ کو چونکہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں شریک ہونا تھا، لہٰذا اپنی تقریر کے بعد وہ وہاں سے چلی گئیں، جس کے بعد کانفرنس کا پہلا تکنیکی اجلاس شروع ہوا۔ اس اجلاس میں وزارتِ اقلیتی امور کے سینئر افسر انوراگ واجپئی نے مرکزی حکومت کی اقلیتوں سے متعلق تمام اسکیموں کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور یہ بھی بتایا کہ کہاں کہاں ہمیں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’نئی اُڑان‘‘ اسکیم  ۲۰۱۳۔۱۴ میں شروع کی گئی تھی۔ اس کے تحت اقلیتی طبقہ کے ان طالب علموں کو سول سروسز مینس امتحان کی تیاری کرائی جاتی ہے، جنھوں نے پری لمس پاس کر لیا ہو۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے ہی سال میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۱۲ اقلیتی طلبہ نے سول سروسز میں کامیابی حاصل کی تھی اور پچھلے سال بھی اتنے ہی طلبہ کو کامیابی ملی ہے۔ انوراگ واجپئی نے یہ بھی بتایا کہ ’’سیکھو اور کماؤ‘‘ مرکزی حکومت کی واحد اسکیم ہے، جس کے تحت ٹریننگ کے بعد نوکری کی گارنٹی دی گئی ہے۔ ۲۰۱۳۔۱۴ میں اس کی شروعات ہوئی۔ اس کے تحت ہر سال ۲۰ ہزار اقلیتی بچوں کو ٹریننگ دی جاتی تھی، لیکن اس بار اب تک ۹۲،۳۳۰ بچے اس کے تحت ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔ ’’نئی منزل‘‘ اسکیم کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ یہ اسکیم مدرسے کے طالب علموں کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں سے ڈراپ آؤٹ بچوں کے لیے بھی ہے۔ اس اسکیم پر کل ۶۵۰ کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، جس میں سے ۵۰ فیصد فنڈ ورلڈ بینک نے مہیا کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے قومی ااقلیتی کمیشن میں سکریٹری کے عہدہ پر فائز آئی اے ایس افسر امریندر سنہا نے ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنی اپنی سرکاروں سے یہ گزارش کریں کہ وہ اقلیتوں کے لیے ایک ایکڑ زمین کا انتظام کردیں، تاکہ وہاں پر ورکنگ ویمن ہوسٹل کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کے لیے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ گرلز ہوسٹل کی تعمیر کرائی جا سکے۔ ان ہوسٹلوں کے باہر ایک پولس پوسٹ بھی بنایا جائے، تاکہ ان لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ دراصل، کئی نمائندوں نے کانفرنس میں اس بات کو رکھا کہ اقلیتی اور خاص کر مسلم لڑکیوں کے والدین ہوسٹل اور مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے سبب اپنی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر تک نہیں بھیجتے، لہٰذا اس مسئلہ کو دور کرنے کے لیے ہوسٹل کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کا انتظام ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی کا حل بتاتے ہوئے امریندر سنہا نے یہ تجویز ان کے سامنے رکھی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہماری دھروہر‘‘ اسکیم کے تحت دائرۃ المعارف عثمانیہ، حیدرآباد میں مغلیہ دور کی جو قیمتی دستاویزات یا دیگر فن پارے رکھے ہوئے ہیں، ان کو ڈجیٹائز اور ری پرنٹ کرنے کا کام مرکزی حکومت نے ریاست تلنگانہ کو سونپا ہے۔

Audience_NCM Annual Conference

امریندر سنہا نے یہ بھی بتایا کہ ملک بھر میں وقف کی کل ۶ لاکھ ایکڑ زمینیں ہیں، جن میں سے ۴ لاکھ ایکڑ پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ تاہم انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے، جس سے وہ ان وقف جائیدادوں کو غیر قانونی قبضے سے چھٹکارہ دلا سکے۔ البتہ اس کا حل انھوں نے بتایا کہ خود اقلیتی طبقہ چاہے گا، تو اپنے درمیان ہی بات چیت کرکے اس کا حل نکال سکتا ہے۔ اس میں اضافہ کرتے ہوئے انوراگ واجپئی نے بتایا کہ ان ۶ لاکھ ایکڑ زمینوں سے سالانہ ۱۲ ہزار کروڑ روپے کی کمائی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک کل ۳ٹ۶۰ٹ۵۷۷ وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں نواڈکو خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دے رہا ہے۔

کانفرنس کے دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت قومی اقلیتی کمیشن کے ایڈیشنل سکریٹری اجوئے کمار اور کمیشن کی رکن مابیل ریبیلو نے کی۔ اس کانفرنس کا خاتمہ وزیر مملکت برائے اقلیتی و پارلیمانی امور مختار عباس نقوی کی اختتامی تقریر سے ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *