میزائل تجربه ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: ایران

Jabir Ansari

تہران، ۱۰ مارچ: ایرانی وزارت خارجه کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے که اسلامی جمہوریه ایران کی مسلح افواج کے حالیه میزائل تجربے نه جوہری معاهدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نه ہی سلامتی کونسل کی ۲۲۳۱ قرارداد کے خلاف ہے.

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ‘حسین جابرانصاری’ نے جمعرات کے روز ایران کے میزائل تجربوں کے خلاف بعض مغربی ذرائع کے دعووں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربے وطن کی دفاعی قوت میں اضافہ کے مقصد سے کیے گئے ہیں.

انہوں نے مزید کہا که اسلامی جمہوریه ایران کے دفاعی نظریے میں مہلک اور جوہری ہتیاروں کی کوئی جگه نہیں ہے اور ‘ولایت اقتدار’ جنگی مشقوں میں حالیه کیے جانے والے کم دوری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربے صرف وطن عزیز کے دفاع کے لیے کیے گئےہیں.

جابر انصاری نے اس بات پر زور دیا که ایران نے ہرگز اقوام متحده کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۲۲۳۱ کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس حوالے سے بعض مغربی ذرائع کا واویلا بے بنیاد ہے. Iran Missile Test

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا که یقینی طور پر اسلامی جمہوریه ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے دشمنوں کی طرف سے کسی بهی جارحیت کا منه توڑ جواب دے گا.

واضح ہو کہ ایرانی فوج کے پاسداران انقلاب دستہ نے ‘ولایت اقتدار’ کے نام سے جاری جنگی مشق کے دوران گذشتہ منگل اور بدھ کو طویل دوری تک نشانہ بنانے والے کئی ایک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ اس پر امریکی انتظامیہ نے تو کوئی سخت رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے لیکن اسرائیل کے دورے پر گئے امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے کوئی بھی خطرہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ میزائل تجربے ایٹمی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں ہیں، اس کے باوجود امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو ٹیلی فون کرکے اپنا اعتراض درج کرایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *