مدھوبنی میڈیکل کالج ڈاکٹر فیاض کے فیاضی کی اعلیٰ مثال: نظر عالم 

مدھوبنی میڈیکل کالج ڈاکٹر فیاض کے فیاضی کی اعلیٰ مثال: نظر عالم
مدھوبنی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز
تصویر……………. کالج، ڈاکٹر فیاض احمد
میڈیکل کالج کی شاندار عمارت

مدھوبنی (پریس ریلیز) مدھوبنی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں ایم بی بی ایس کی پڑھائی شروع ہوتے ہی اہالیان مدھوبنی سمیت تمام محبان تعلیم کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا ہے۔کالج کے بانی و منتظم ڈاکٹر فیاض احمد (رکن اسمبلی بسفی) کی اس بڑی حصولیابی سے جہا ں ڈاکٹر بننے کی چاہت رکھنے والے سینکڑوں طلباء کی مرادیں پوری ہوئیں ہیں وہیں کئی سطح پر محرومیوں کا شکار رہا مدھوبنی ضلع کا نام بھی روشن ہوا ہے۔ یقینا مدھوبنی ضلع ملک بھر میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرانے میں کامیاب ہوگا۔محب تعلیم ڈاکٹر فیاض احمد کے اس دیرینہ خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے پر ہم انہیں دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعاء کرتے ہیں کہ خالق کائنات ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور دن دونی رات چوگنی ترقیات سے نوازیں۔

بانی کالج ڈاکٹر محمد فیاض احمد
مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے مدھوبنی دورہ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدھوبنی میڈیکل کالج 150طلباء کے چہل پہل سے گلزاررہنے لگا ہے۔ ڈاکٹر فیاض احمد نے اپنی فیاضی اور حسن انتظام کا ثبوت دیتے ہوئے وسیع و عریض رقبہ میں کثیر منزلہ خوبصورت عمارت، کشادہ احاطہ، جدید سہولیات سے آراستہ کلاس روم، آرام دہ اے سی ہاسٹل،ڈیجیٹل لائبریری اورجدید ترین تجربہ گاہ بنوایا ہے جوکہ ایم سی آئی کے معیار اور کسوٹی پرپوری طرح کھرے اترتے ہیں۔تمام طبی سہولیات سے آراستہ500بیڈ والا سوپر اسپیسلٹی اسپتال کا بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ یہاں مامور ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹر، نرسیز، ٹیکنیشین اور طبی عملہ مریضوں کا بھر پور خیال رکھ رہے ہیں اور سنگین سے سنگین مریض کو بھی اب باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ مدھوبنی ہی نہیں پڑوس کے کئی اضلاع اورنیپال تک کے لوگ اپنا علاج کروانے یہاں پہنچ رہے ہیں اور مطمئن ہو کر جارہے ہیں۔ ٹریننگ کالج، اسکول، ڈگری کالج اور میڈیکل کالج قائم کرکے ڈاکٹر فیاض احمد نے جہاں اپنی دور اندیشی،فیاضی اور اعلیٰ دماغی کی مثال پیش کی ہے وہیں انہو ں نے ہر خاص و عام کے دل میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں ان کا یہ کارنامہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply