حکومت یکساں سول کوڈ کا مسودہ سامنے لائے

سرکردہ دانشوروں اور سیاسی و سماجی نمائندوں کا مطالبہ

ممبئی: سرکردہ مسلم دانشوروں اور سیاسی وسماجی نمائندوں نے منگل کو یہاں ایک خصوصی میٹنگ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت چور دروازے سے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیشنل لاء کمیشن کی طرف سے جاری کردہ سوال نامہ ایک بے نتیجہ سرگرمی ہے کیونکہ اگر واقعی مرکزی حکومت ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی خواہشمند ہے تو وہ اپنی طرف سے اس کا مسودہ عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ ملک کے مختلف طبقات اس پر اپنی رائے قائم کرسکیں۔

میٹنگ کے شرکاء کا اس امر پر اتفاق ہوا کہ اس ملک میں مختلف مذہبی اور تہذیبی فرقوں کے سیکڑوں پرسنل لاز ہیں اور ایسی حالت میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ناممکن ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ سرگرمی محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی صف بندی کے لیے کی جارہی ہے۔ شرکاء کا خیال تھا کہ لاء کمیشن کے سوالنامہ کو بے اثر کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو یکسر نظر انداز نہ کرتے ہوئے اس کا جواب نفی میں دیا جائے اور لاء کمیشن کو اس کے خلاف خطوط لکھے جائیں تاکہ ملت کا جواب کمیشن کے ریکارڈ پر رہے۔

میٹنگ کی صدارت معروف ملی رہنما ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں (ایڈیٹر ’ملی گزٹ‘) نے کی۔اس میں اظہار خیال کرنے والوں میں ابوعاصم اعظمی (ایم ایل اے، سماجوادی پارٹی)،امین پٹیل (ایم ایل اے، کانگریس پارٹی)، وارث پٹھان (ایم ایل اے، مجلس اتحادالمسلمین)، شمشیر خاں پٹھان (صدرعوامی وکاس پارٹی)،ایڈووکیٹ سید جلال الدین (چیئرمین اقلیتی شعبہ، این سی پی مہاراشٹر)، سہیل خلیل صوبیدار (چیئرمین اقلیتی شعبہ، این سی پی ممبئی)، مبین قریشی (جنرل سکریٹری راشٹر وادی کانگریس پارٹی بائیکلہ)، سرکردہ صحافیوں میں حسن کمال (سابق ایڈیٹر بلٹز)، خلیل زاہد (ایڈیٹر اخبار عالم)، سرفراز آرزو(ایڈیٹر ہندوستان ممبئی)، معصوم مرادآبادی (ایڈیٹر جدید خبردہلی)، شکیل رشید (ایڈیٹرممبئی اردو نیوز)، اعظم شہاب (سینئرصحافی)، سید منظرزیدی (روزنامہ ہم آپ ممبئی) اور محمد ہارون افروز(روزنامہ ہم آپ ممبئی ) شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *