امریکہ سے چلے گی مودی سرکار

حسام صدیقی

نئی دہلی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لگانے کے بعد ملک میں بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً تمام چھوٹی اور منجھولی صنعتیں بند ہو گئیں۔ سب سے زیادہ روزگار دینے والی آئی ٹی کمپنیوں میں مسلسل چھٹنی ہو رہی ہے۔ ریاستوں کو بڑے پیمانے پر ریونیو فراہم کرانے والی کنسٹرکشن صنعت نوّے فیصد تک ٹھپ ہو چکی ہے۔ جی ڈی پی میں تقریباً تین فیصد گراوٹ درج ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے تمام وزیر اس لئے خوش ہیں کہ جعل سازی کے لیے بدنام امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مودی سرکار کی معاشی پالیسی پوری طرح کامیاب ہے۔ اس لیے موڈیز نے سترہ نومبر کو ہندوستان کی ریٹنگ بی اے اے-۳ سے بڑھا کر بی اے اے-۲ کر دی ہے۔ اس سے دو تین ہفتہ پہلے امریکہ کی ہی ایک تھنک ٹینک ایجنسی ’’پیوریسرچ سینٹر‘‘ نے اپنے ایک سروے کی بنیاد پر رپورٹ دی تھی کہ بھارت میں نریندر مودی اب بھی سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ یہاں تک کہ ہر دس میں سے نو لوگ مودی حامی ہیں۔ ’موڈیز‘ کے کچھ افسران یہ رپورٹ جاری کرنے سے تین دن قبل دہلی آئے تھے۔ دہلی میں موڈیز ٹیم نے بھارت سرکار کے اعلیٰ سطحی لوگوں سے ملاقات کی تھی اور واپس جا کر مودی اور ان کے وزیروں کو خوش کرنے والی رپورٹ جاری کر دی تھی۔ ’موڈیز امریکہ میں نہ صرف کافی بدنام ہو چکی ہے بلکہ کچھ سال پہلے غلط اور جعل سازی بھری ریٹنگ کی وجہ سے امریکہ سرکار ا س پر بھاری بھرکم جرمانہ بھی لگا چکی ہے۔ موڈیز پر الزام لگا تھا کہ غلط اور جعل سازی بھری ریٹنگ جاری کر کے اس نے امریکہ کے معاشی سسٹم کو تباہ کرنے کا جرم کیا تھا۔ یہ کریڈٹ ریٹنگ کمپنی مفت میں کام بھی نہیں کرتی یہ کسی بھی ملک یا گروپ کی تعریف کرنے اور ’’ہائی ریٹنگ‘‘ کے لیے بھاری بھرکم فیس بھی لیتی ہے۔ خبر ہے کہ یہ فیس کالے اور سفید دھن دونوں شکلوں میں ہوتی ہے۔ موڈیز سے چند دن پہلے ہی امریکہ کے ہی ایک اور تھنک ٹینک ’پیو ریسرچ سینٹر‘ نے مودی کی مقبولیت سے متعلق جو رپورٹ دی اس میں تو جھوٹ اور جعل سازی کے تمام ریکارڈ ہی توڑ دیے۔ اس کے مطابق بھارت کے ہر دس میں سے نو لوگ نریندر مودی کو ہی پسند کرتے ہیں یعنی نوّے فیصد لوگوں میں مودی مقبول ہیں۔ رپورٹ آئی ایک دو دن تو بی جے پی لیڈران، مودی بھکتوں اور آر ایس ایس کنبہ نے اس کا ذکر کیا لیکن جلدی ہی شاید ان سب کی سمجھ میں آ گیا کہ یہ رپورٹ کچھ زیادہ ہو گئی۔ نوّے فیصد لوگ مودی کو پسند کرتے ہیں اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اپوزیشن نام کی کوئی چیز بھارت میں ہے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں سترہ سے بیس فیصد مسلمان بھی مودی کو چاہنے لگے ہیں۔ ایک دو دن بعد ہی اس رپورٹ کا ذکر بند ہوگیا کیونکہ اتنا بڑا جھوٹ ملک کے لوگ ہضم نہیں کر پا رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *