مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مرکزی حکومت کی مداخلت

The Supreme Court of India in New Delhi on Sept 1, 2014. The government Monday told the Supreme Court that they stood by its verdict holding allocation of coal blocks since 1993 as illegal, and was ready to auction these blocks if they are cancelled but sought exceptions for some mines which were operational.. (Photo: IANS)نئی دہلی (نامہ نگار): طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ شخصی حقوق کے استعمال کی بنیاد پر کسی کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ مرکزنے طلاق ثلاثہ کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز بتایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ ’خواتین کے وقار کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔‘ اس کے ساتھ ہی مرکزنے کہا ہے کہ ’ایک سیکولر ملک میں طلاق ثلاثہ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ عورتوں کے ساتھ امتیاز، عدم مساوات اور ناانصافی ہے۔‘
مرکزی حکومت کے اس موقف کو مسلمانوں کے شخصی قوانین میں مداخلت کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس معاملے میں پہلے ہی اپنا حلف نامہ داخل کرچکا ہے۔ بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ سماجی اصلاحات کے نام پر شرعی قوانین میں کسی بھی طرح کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بورڈ نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ آئین نے مسلمانوں کو اپنے مذہبی قوانین کے حساب سے زندگی گذربسر کرنے کا حق دے رکھا ہے ۔
معاملہ کیاہے؟
مسلم خواتین کا چند ایک گروپ طلاق ثلاثہ کے خلاف کئی برس سے مہم چلا رہا ہے۔ ان خواتین کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ تین بار طلاق کہہ کر ازدواجی رشتہ کو ختم کرنے کا قانون عورتوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی ہے۔ اسی کی بنیاد پر انہوں نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ پر روک لگانے کے لیے عرضی داخل کی۔ ان کی عرضی پر عدالت عظمیٰ میں سماعت جاری ہے۔ اسی کے تحت عدالت نے مرکزی حکومت سے طلاق ثلاثہ کے بارے میں اس کی رائے طلب کی تھی۔
طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں مسلمانوں کے درمیان بھی اختلاف ہے۔ خاص طور سے نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ تین بار طلاق کہہ کر بیوی کو چھوڑدینا اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ دوسری جانب طلاق ثلاثہ کو شریعت کے مطابق ماننے والوں کا کہنا ہے کہ طلاق اپنے آپ میں اچھی چیز نہیں ہے۔ اس کو اللہ نے بھی ناپسند فرمایا ہے۔ طلاق کا بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ ایک ایک طلاق کے درمیان ایک ایک مہینے کا وقفہ رکھا جائے تاکہ اس دوران میاں بیوی آپس میں صلح صفائی کی پہل کرکے ایک ساتھ رہنے کی کوشش کریں۔ لیکن اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاق دے دیا تب بھی طلاق ہوجائے گی اور میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *