پٹنہ میں محسن ملت سیمینار کا انعقاد


پٹنہ:30دسمبر۔معروف عالم دین کامیاب سیاست داں سینکڑوں مدارس و مکاتب کے سرپرست اور کشن گنج کے رکن پارلیامنٹ حضرت مولانا محمد اسرارالحق قاسمی کی ناگہانی موت سے پوری امت صدمے میں ہے۔ پورے ملک میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی نشستوں اور سیمیناروں کا اہتمام ہورہا ہےاور لوگ اس مرد مجاہد کو پر جوش خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے روشن کئے ہوئے شمع کو باد مخالف سے محفوظ رکھنے کا عہد بھی کررہے ہیں۔بلا شبہ ان کی رحلت ملت اسلامیہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ان کی رحلت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔مقام افسوس ہے کہ بہار کےاس مایہ نازسپوت کی رحلت پربڑے پیمانے پر کوئی تعزیتی جلسہ کا اہتمام نہیں کیا گیا لیکن وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کےڈائرکٹرشاہنوازبدرقاسمی اور نور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی دربھنگہ کے سکریٹری معروف قلم کارمولانانورالسلام ندوی نےاس جمود کو توڑتے ہوئے ایک شاندارسیمینارکا اہتمام کیا۔

جس میں کثیر تعداد میں دانشوران ملت نے شرکت کی ۔
تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے نورالسلام ندوی نے کہا کہ حضرت مولانا کی ہمہ جہت شخصیت اور بیش بہا خدمات ریاست و ملک کیلئے نا قابل فراموش ہیں اس لئے ایسی عظیم المرتبت شخصیت کے حیات و خدمات سے لوگوں کو روشناس کرانا زندہ قوم کی علامت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم لوگوں کی دعوت پر اتنی کثیر تعداد میں دانشوران ملت اور عقیدت مندان اسرارالحق یہاں جمع ہیں۔


حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کے معتمد خاص اور آل انڈیا تعلیمی و ملی فائونڈیشن کے سکریٹری مولانا نوشیر احمد نے بہت ہی تفصیل سے حضرت مولانا سے متعلق اہم گوشوں پر روشنی ڈالی۔انہو ں نے کہا کہ مولانا محترم کو سب سے زیادہ خوشی تب ہوئی تھی جب وہ مجلس شوری دارالعلوم دیوبند کے رکن منتخب کئے گئے تھے ۔حالانکہ اس سے قبل وہ رکن پارلیامنٹ منتخب ہوچکے تھے ۔ مولانا کی شخصیت باغ وبہار تھی کیا امیر کیا غریب سبھوں سے خندہ پیشانی سے ملا کرتے اور جہاں تک ممکن ہوتا ان کی حاجت روائی کرتےرکن پارلیامنٹ کی حیثیت سے کشن گنج حلقے میں جو ترقیاتی کام کئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں ۔انہوں نے 300مدارس و مکاتب اور عمارت تعمیر کروائے ۔ وہ تمام مسلک کے لوگوں کا یکساں احترام کرتے تھے گروہ بندی مسلکی اختلاف سے ہمیشہ گریز کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کشن گنج کے لوگوں کے دلوں میں بستے تھےان کی آخری سفر میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے۔
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ کے پرنسپل مولانا مشہود احمد قادری ندوی نے اپنے چالیس سالہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملت میں تعلیمی بیداری کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل رہےمولانا محترم اعلی اخلاق اور اعلی کردار کے صفات سے مزین تھےان کی رحلت سے ملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اللہ ان کے درجات کو بلند کرے۔
مدرسہ بدرالا سلام بیگوسرائے کے ناظم تعلیمات مفتی خالد نیموی قاسمی نے ان کی خوشگوار یادوں اور گراں قدر خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ عالم با عمل تھے ۔ ان کی ناگہانی موت سے مجھے ذاتی طور پر بہت قلق ہے اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ۔
معروف صحافی اشرف استھانوی نے نورالسلام ندوی اورشاہنواز بدر قاسمی کے جرأت مندانہ اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے بہار کے اس مایہ ناز سپوت کے گراں قدر خدمات اور ان کے صحافتی و تعلیمی کارناموں سے عام لوگوں کو باخبر کرانے اور اس مرد مجاہد کو پر جوش خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے روشن کئے ہوئے چراغ کو باد مخالف سے محفوظ رکھنے کیلئے جو یہ پروگرام منعقد کیاہے اس کیلئے یہ حضرات حد درجہ قابل مبارک باد ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ میرے مراسم حضرت مولانا سے تقریباً 28سالوں کے رہے ہیں ۔ بہت ہی انکساری ،عاجزی ،ادب نوازی اور مردم شناسی ان کے اندر بدرجہ اتم تھی،بلاشبہ ان کا قبل از وقت دنیا سے چلاجانا ملت کیلئے بڑا خسارہ ہے۔
روزنامہ انقلاب بہارکےایڈیٹر احمد جاوید نے کہا کہ مولانا محترم کی شخصیت جہد مسلسل سے عبارت تھی وہ نامساعدحالات میں بھی ہمت نہیں ہارتے تھے بڑے ہی صابر و شاکر انسان تھے ایسے لوگ خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔
اس سے قبل وژن انٹرنیشنل سہرسہ کےسربراہ شاہنواز بدر قاسمی نے سمینار کےغرض وغائت پر روشنی ڈالتے ہوئے کثیر تعداد میں دانشواران ملت اورملی و سماجی کارکنان کی تشریف آوری پر اظہار مسرت کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ انہو ں نےکہا کہ مولانا نےتعلیمی بیداری کیلئےجوخدمات انجام دیئے ہیں اسے بھلایا نہیں جاسکتا وہ ہم جیسے لوگوں کیلئے آئیڈیل تھے۔
دریاپور جامع مسجد کے امام اور خطیب مولانا عالم قاسمی نے اپنے 35سالہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چار بار کشن گنج پارلیامانی حلقہ سے الیکشن میں ہارتے رہے لیکن ہمت نہیں ہارے پانچویں بار جب وہ کامیاب ہوئے تو پھر چھٹی بار بھی کامیابی نے ان کا قدم چومی،ان سے میرے درینہ مراسم رہے ہیں۔ان کی رحلت سے مجھے جاتی صدمہ پہنچا ہے اللہ مرحوم کے درجات کو بلند کرے۔ریاستی حج کمیٹی کے سابق چیئر مین الحاج الیاس حسین عرف سونو بابو اپنے درینہ مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ بہار کے نمائندہ شاعر سید حسن نواب حسن اور حافظ اسجد امینی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد مقیم الدین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے سابق پرنسپل مولانا ابوالکلام شمسی قاسمی نے مولانا موصوف کو پرخلوص خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موت العالم موت العالم،اللہ ان کا نعم البدل عطا کرے۔توحیدایجوکیشنل ٹرسٹ کشن گنج کے چیئر مین مولانا شیخ مطیع الرحمان سلفی نے کہا کہ مولانا کی رحلت سے سیمانچل یتیم ہوگیا ہےرکن پارلیامنٹ کی حیثیت سے سیمانچل خاص کر اپنے پارلیامانی حلقہ کشن گنج کی ترقی کیلئے جو کارہائے نمایاںانجام دیئے ہیں وہ نا قابل فراموش ہیں۔”محسن ملت سیمینار”سےخطاب کرنے والے اہم لوگوں میں عوامی نیوز کے مدیر عبدالواحدرحمانی ،بہارآرجےڈی یوتھ کےصدر قاری محمدصہیب ، ریاستی کانگریس اقلیتی سیل کے صدر منت رحمانی،کشن گنج ڈسٹرکٹ بورڈ کے رکن محمد عمران اور شہزاد کوثر کے علاوہ جامعہ امام ابن تیمیہ چمپارن کے آصف تنویر تیمی،بہار رابطہ کمیٹی کےسکریٹری افضل حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ شکریہ کی تجویز وژن انٹرنینشل اسکول کےڈائریکٹرنعیم صدیقی نےپیش کی_

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply