مولانا ابواخترقاسمی ایک کامیاب مبلغ : نظر عالم

دربھنگہ: (پریس ریلیز) ۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایک جگہ علی میاں ندویؒ لکھتے ہیں:”یہ دین چوں کہ آخری اور عالمگیردین ہے، اور یہ امت آخری اور عالمگیر امت ہے، اس لئے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دُنیا کے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا اور ایسی کشمکش کا اس کو مقابلہ کرنا ہوگا جو کسی دوسری اُمت کو دنیا کی تاریخ میں پیش نہیں آئی، اِس اُمت کو جو زمانہ دیا گیا، وہ سب سے زیادہ پُراَزتغیرات اور پُراَزانقلابات ہے، اور اِس کے حالات میں جتنا تنوع ہے، وہ تاریخ کے کسی گزشتہ دَور میں نظرنہیں آتا۔“(تاریخ  دعوت و عزیمت، جلد اوّل، ص۸۱)
”جاوِداں، پیہم دَواں، ہردم جواں ہے زندگی“
جب اس امت کو مختلف اَدوار کا سامنا کرنا ہے ہر دور کے مسائل کو حل کرنا ہے تو ضرورت اس بات کی تھی بقول علی میاں ندویؒ:”کوئی مذہب اُس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتا، اُن خصوصیات کو زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھ سکتا، اور بدلتی ہوئی زندگی پر اثر نہیں ڈال سکتا، جب تک وقتاً فوقتاً اُس میں ایسے اشخاص نہ پیدا ہوتے رہیں، جو اپنی غیرمعمولی یقین، روحانیت، بے غرضی و ایثار اور اپنی اعلیٰ دماغی اور قلبی صلاحیتوں سے اُس کے تن مردہ میں زندگی کی نئی روح پھونک دے، اور اُس کے ماننے والوں میں اعتماد اور جوش اور قوت عمل پیدا کردیں۔“ (تاریخ دعوت و عزیمت، جلد اوّل، ص۷۲)
مولانا ابواخترقاسمی صاحب کی جائے پیدائش بیگوسرائے ہے۔ مگر موصوف نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شہر دربھنگہ ہی کو دیا ہے۔ آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بہت کم ایسے خوش نصیب اِس جہاں میں ہوئے ہیں جن کی موجودگی کی وجہ سے کسی شہر کو شہرت حاصل ہوا ہو۔ بیشک آپ کی موجودگی نے شہر دربھنگہ کو عالمی سطح پر متعارف کروایا ہے۔ آپ علم دین کے ساتھ علم نفسیات کے بھی ماہر ہیں۔ آپ نے جب شہر میں قدم رکھا تو عالموں کے باوجود شہر میں چہار سمت اُداسی چھائی ہوئی تھی، مریض کے ساتھ طبیب تو موجود تھے مگر دوا نہ تھی، آپ نے اپنا دروازہ ہر خواص و عام کے لئے کھول دیا، لوگ آتے اور اپنی علمی و روحانی پیاس بجھا جاتے۔ لوگوں کی باتوں کو سننا پھر سمجھنا اور اس کا حل تلاشنا ہرکس و ناکس کرسکتا ہے، مگر لوگوں کے دِلوں کو پڑھنا اوراُس کی الجھنوں، اُس کی دشواریوں اور اس کی پریشانیوں کو جڑ سے ختم کردینا یہ آپ کا خاصہ رہا ہے۔
آپ لوگ یہاں موجود ہیں، آپ سبھی علم دین کے چاند و سورج ہیں۔ ہم آپ کو کیا چراغ دکھائیں۔ نہ میں عالم ہوں اور نہ ہی عالموں کے ساتھ میرا زیادہ وقت گزرا ہے مگر اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں اِتناکہہ سکتا ہوں کہ جیسے ”ولی ہونے کے لئے علم شرط ہے“ ویسے ہی ”مبلغ“ ہونے کے لئے ماہرنفسیات ہونا ضروری ہے۔
مولانا ابواخترقاسمی صاحب کامیاب ترین مبلغ ہیں۔ آپ کروڑوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں، اور یہ آپ کی زندگی کا ایک رخ ہے جو ہم نے بتایا۔  دعاء ہے اللہ رب العزت آپ کا سایہ تادیر ہم لوگوں پر قائم رکھے۔ جاتے جاتے موصوف کی نذر یہ شعر:
مجھ سے لگے ہیں، عشق کی عظمت کو چارچاند
خود حُسن کو گواہ کئے جارہا ہوں میں
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply