حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی رحلت ملت کا عظیم خسارہ

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں.

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی رحلت  کی خبر کافی غمناک اور قوم و ملت کا کافی خسارہ ہے    . چند سال قبل سمری بختیار پور کے مدرسہ فلاح المسلمین کے جلسہ سیرت النبی و دستار بندی میں حضرت تشریف لائے تھے اور نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے سیرت پاک پر خاص کر نبی بشر تھے مگر کیسے بشر؟ اس پر تین گھنٹے سے زائد اپنی پرمغز تقریر کے ذریعہ وہ سماں باندھا کہ نہ صرف پورا مجمع عش عش کر دیا بلکہ بریلوی مکتبہ فکر کے لوگوں نے بھی اس تقریر کی زبردست تعریف کی اور آج بھی ان کی اس تقریر کو لوگ بطور مثال پیش کرتے  ہیں.

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی خانوادۂ قاسمی کے گل سر سبد اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب کے خلف اکبر و جانشین اور دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم اور اس کے تادم حیات  سرپرست  رہے کی ولادت 8 جنوری 1926 بروز جمعہ کو دیوبند میں ہوئی  ۔ایک تو حکیم الاسلام قاری محمد طیب  صاحب کی سرپرستی اور اس پر  حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کی تربیت اور شاگردی  نے ان کے اندر وہ نکھار پیدا کیا کہ آپ علم وعرفاں کے سمندر اور بے مثال خطیب  بن کر قوم کی رہنمائی کی  اور خانوادہ قاسمی کے نام کو روشن کیا   . محترم سالم قاسمی کے طالب علمی کے زمانے کے رفقاء میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے چیئرمین حضرت مولانا محمد رابع حسن ندوی، جمیعت العلماء کے سابق صدر مرحوم حضرت مولانا اسعد مدنی جیسی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں

جب  دار العلوم دیوبند کے اندر  پیدا ہونے والے اختلاف میں  صلح کی گنجائش نہیں بچی تو پھر  آپ نے اپنے رفقا کے تعاون سے دار العلوم وقف کے نام سے دوسرا دار العلوم قائم کر لیا، جس کے شروع سے مہتمم اور اب تادم حیات  سرپرست رہے..

مسلمانوں کی شاید ہی کوئی بڑی تنظیم اور ادارے ایسے  نہیں ہیں جن میں ان کی نمائندگی نہیں رہی ہو.  وہ

  1. مسلم پرسنل لا بورڈ کے ماضی میں رکن مجلس عاملہ اور اب نائب صدر تھے.
  2. سرپرست دار العلوم وقف دیوبند۔
  3. صدر مجلس مشاورت۔
  4. رکن مجلس انتظامیہ و شوریٰ ندوۃ العلماء۔
  5. رکن مجلسِ شوریٰ مظاہر العلوم وقف۔
  6. مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کورٹ کے رکن۔
  7. سرپرست کل ہند رابطۂ مساجد۔
  8. سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا۔

حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کو ان کی شاندار کارکردگی و کارنامے کی وجہ سے انعامات و اعزازات سے نوازا جاتا رہا ہے جن میں

  1. وہ پہلے ایشیائی تھے جن کو مصری حکومت کی طرف سے برِّصغیر کے ممتاز عالم کا نشانِ امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا.
  2. مولانا قاسم نانوتوی ایوارڈ۔
  3.  حضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈ۔

اور بہت سے انعامات و اعزازات سے آپ کو نوازا گیا ہے ۔

آج جبکہ مسلمانوں کو کہیں چین وسکون نصیب نہیں ہے، قوم کو ایک اچھے اور سلجھے ہوئے باصلاحیت قائد کی ضرورت ہے ایسے وقت میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی رحلت قوم کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے جس کی بھر پائی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے.

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *